بائیکاٹ کے فیصلے پر بھارتیوں کو مروڑ، انڈین میڈیا پر دوبارہ جھوٹی خبروں کا طوفان

image

پاکستانی حکومت اور کرکٹ بورڈ کو بار بار چیلنج کرنے کے بعد کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے اپنی ٹیم کو نکال کر دکھائے یا بھارت سے نہ کھیل کر دکھائے، اب بھارتی میڈیا، ان کے یوٹیوبرز، سابق ٹیسٹ کھلاڑی اور سیاست دان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر زور ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف تادیبی کارروائی کرے۔

اس وقت بھارتی میڈیا میں جھوٹی خبروں کا ایک طوفان ہے جس میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ آئی سی سی پاکستان ٹیم کے خلاف کارروائی کرنے والا ہے۔ یہ من گھڑت خبر ٹھیک اسی طرح چلائی جا رہی ہے جیسے پچھلے سال بھارتی میڈیا چینلز نے بھارت کی فوج کو پاکستان کے مختلف شہروں میں پہنچا دیا تھا۔

ساتھ ہی ساتھ بھارت کی اپوزیشن پارٹیز نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور بھارت کی اسپورٹس منسٹر اور بورڈ کے چہرے پر طمانچہ قرار دیا ہے۔

کانگریس، شیوسینا اور دیگر پارٹیز کے لوگ اب بھارتی کرکٹ بورڈ اور حکومت پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ ایسا تاثر مل رہا ہے کہ بھارت میں کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ یا حکومت اتنا بڑا فیصلہ کرے گی کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ میں بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کردیا جائے گا۔

جب یہ خبریں گردش کر رہی تھی کہ پاکستان شاید ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم نہ بھیجے یا پھر اگر ٹیم بھیجتا ہے تو بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا تو اس وقت بھارت کے میڈیا کے لوگوں نے اور سابق کھلاڑیوں نے چیلنج کیا کہ پاکستان ایسا کرکے دکھائے۔

انڈیا کے سابق ٹیسٹ کپتان Ajinkaya Rahane نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں ہمت ہی نہیں کہ وہ ایسے فیصلے کریں۔ اب جب پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت نے سخت فیصلہ لے ہی لیا تو بھارت میں اور دنیائے کرکٹ میں ایک کھلبلی مچی ہوئی ہے کہ آگے کیا ہوگا کیونکہ پاکستان اور بھارت کے جو آئی سی سی ٹورنامنٹس میں میچز ہوتے ہیں اس سے ہی آئی سی سی اور ان کے براڈکاسٹرز سب سے زیادہ پیسہ کماتے ہیں جو سارے بورڈز میں بانٹا جاتا ہے۔

بھارتی میڈیا اب یہ رپورٹ کر رہا ہے کہ آج آئی سی سی کی ایک ایم این جی سی میٹنگ میں پاکستان کے خلاف کوئی فیصلہ آنے والا ہے جب کہ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق اگر کسی ملک کی حکومت اس کو کسی بھی آئی سی سی ایونٹ میں کسی بھی ٹیم سے یا ایونٹ میں کھیلنے سے منع کردے تو آئی سی سی بھی اس فیصلے کا پابند ہوتا ہے اور کچھ نہیں کرسکتا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US