پاکستان فٹبال فیڈریشن کے زیرِ اہتمام نیشنل چیلنج کپ کا آغاز بدھ، 4 فروری سے ہوگا، جس میں ملک بھر سے 12 ٹیمیں شرکت کریں گی۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی کی قیادت میں ملکی فٹبال کی بحالی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور نیشنل چیلنج کپ کا انعقاد مقامی کھلاڑیوں کو طویل عرصے بعد مسابقتی فٹبال کھیلنے کا موقع فراہم کرے گا۔
ٹورنامنٹ میں شامل 12 ٹیموں کو تین، تین ٹیموں پر مشتمل چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں سے ہر گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں کوارٹر فائنلز کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
گروپ ’اے‘ میں نیوی، پاکستان ایئر فورس اور مامسنز شامل ہیں، گروپ ’بی‘ میں دفاعی چیمپئن واپڈا، کے آر ایل اور ہزارہ کول کمپنی موجود ہیں۔ گروپ ’سی‘ میں آرمی، ریلوے اور انٹرنیشنل سپلائی کمپنی شامل ہیں، جبکہ گروپ ’ڈی‘ میں ایس اے گارڈنز، پاکا اور نمسو شامل ہیں۔
منگل کو ہونے والی پریس بریفنگ میں پاکستان قومی مردوں کی فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ نولبرٹو سولانو نے کہا کہ نوجوان ٹیلنٹ کو آگے بڑھنے کے لیے ملکی سطح پر مقابلوں کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ ماہ ہونے والی سیف انڈر 20 چیمپئن شپ کے لیے مقامی کھلاڑی سامنے آئیں گے۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن کے نائب صدر حافظ ذکاءاللہ نے کہا کہ مقامی ٹورنامنٹس کے انعقاد کا مسلسل مطالبہ کیا جا رہا تھا اور یہ نیشنل چیلنج کپ مقامی فٹبال کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
سندھ فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر اعظم خان نے کہا کہ صوبائی ادارہ اس ایونٹ کو شاندار انداز میں منعقد کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور چیلنج کپ کی بحالی ملکی سطح پر مزید مقابلوں کی بنیاد بنے گی۔