انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے پر اتر آتی ہے تو پی سی بی کو ممکنہ طور پر 40 بلین روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس وقت 2024 سے لے کر 2027 تک پی سی بی کو آئی سی سی کے تمام ایونٹس میں جو حصہ ملے گا وہ تقریباً 144 ملین ڈالرز ہے جو آج کے ڈالر ریٹ کے حساب سے مجموعی طور پر تقریباً 40 بلین پاکستانی روپے بنتے ہیں۔
اس مد میں آئی سی سی پی سی بی کو ہر سال تقریباً 36 سے 38 ملین ڈالرز کا شیئر دیتا ہے۔ پاکستان حکومت نے پی سی بی کو ورلڈ کپ میں کھیلنے کی اجازت دے دی ہے مگر بھارت کے خلاف 15 فروری کو میچ کا بائیکاٹ کرنے کی ہدایت کی ہے جس سے آئی سی سی اور دوسرے ممبران بورڈ پی سی پی سے نالاں ہیں۔
آئی سی سی ذرائع کے مطابق اگر اگلے ایک دو دن میں پی سی بی نے بھارت سے کھیلنے کی حامی نہیں بھری تو آئی سی سی ان کے خلاف قانون کے تحت تادیبی کارروائی شروع کرسکتا ہے جس میں مالی تادیبی کارروائی شامل ہوسکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے ان کے ایک سینیئر رکن عمران خواجہ کو ثالثی کردار ادا کرنے کے لیے کہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان بھارت سے نہیں کھیلتا تو آئی سی سی کو اور ان کے براڈ کاسٹر کو تقریباً ڈھائی سو ملین ڈالرز کا نقصان ہوسکتا ہے اس لیے آئی سی سی کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ پی سی بی کو منالیں۔
ذرائع نے بتایا کہ عمران خواجہ جو آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین ہیں، نے پی سی بی کے چیئرمین سے فون پر رابطہ کرلیا ہے۔ دوسری طرف پی سی بی کو اگر مالیاتی تدابیر کا سامنا کرنا پڑے تو پاکستان کرکٹ کو چلانے میں بھی مشکلات پیش آسکتی ہے۔
آئی سی سی سے جو حصہ ملتا ہے اس کے علاوہ پی سی کی آمدنی کے مرکزی ذرائع پاکستان سپر لیگ کی سالانہ فرنچائز فیس، پی ایس ایل کے سینٹرل پول سے پانچ پرسنٹ کا حصہ، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سپانسر شپ اور میڈیا رائٹس شامل ہیں۔ پی ایس ایل سے ری ویلیویشن کے بعد اور دو نئی ٹیمیں بیچنے کے بعد پی سی بی کو سالانہ فرنچائز فیس کی مد میں 40 سے 42 ملین ڈالرز کی آمدنی پکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے بھی حکومت کو فیصلہ کرنے سے پہلے ساری قانونی تیاری کی ہوئی ہے کہ اگر آئی سی سی کوئی کارروائی کرتا ہے تو اس کا جواب دے سکے۔