دنیائے کرکٹ کے کئی بڑے ناموں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ورلڈ کپ میں بھارت سے میچ کھیلنے سے انکار کر کے پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بھارتی کرکٹ بورڈ کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار کرکٹ کے سابق کپتانوں اور نامور کھلاڑیوں نے کیا، جن میں انگلینڈ کے ناصر حسین، مائیک ایتھرٹن، مارک بچر اور آسٹریلیا کے کیری اوکیف اور مائیکل کلارک شامل ہیں۔
سابق کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ آئی سی سی نے بنگلا دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کر کے دہرا معیار اپنایا، جس کے باعث عالمی کرکٹ بورڈز میں بھارت سے متعلق ناراضی پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ طویل عرصے سے اپنی من مانی کرتا آ رہا ہے اور آئی سی سی اس کے سامنے بے بس نظر آتی ہے، جس سے عالمی کرکٹ میں واضح دوہرا معیار سامنے آیا ہے۔
ناصر حسین، مارک بچر اور کیری اوکیف نے کہا کہ پاکستان کو اب اپنی مالی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ورلڈ کپ ایونٹس میں آئی سی سی کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو انٹرنیشنل کرکٹ سے الگ کرنا اتنا آسان نہیں اور اگر اس تنازع کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو اس سے عالمی کرکٹ کو نقصان پہنچے گا۔
مارک بچر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بھارت سے میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ دنیائے کرکٹ کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تمام سابق کھلاڑیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان نے اپنے اس فیصلے سے آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ بورڈ کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اور یہ ایک جرات مندانہ قدم ہے۔