امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات آج عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود شرکت کریں گے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں شرکت کے لیے عمان پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران مذاکرات میں پورے اختیار کے ساتھ شریک ہوگا تاکہ منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار مفاہمت تک پہنچا جا سکے۔
ادھر امریکی حکام بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے عمان روانہ ہو چکے ہیں۔ امریکی وفد میں نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
قبل ازیں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات جمعے کو ترکی کے شہر استنبول میں شیڈول تھے تاہم ایران کی درخواست پر مذاکرات کا مقام عمان منتقل کر دیا گیا۔ ایران نے اس کے ساتھ مذاکرات میں علاقائی شراکت داروں کو شامل نہ کرنے اور بات چیت کو صرف جوہری امور تک محدود رکھنے کا بھی مطالبہ کیا تھا، تاہم ان مطالبات کو منظور یا رد کیے جانے سے متعلق تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔