سری لنکن کرکٹ بورڈ کی درخواست پر محسن نقوی کا حکومت سے دوبارہ مشاورت کا عندیہ

image

سری لنکن کرکٹ بورڈ کی درخواست کے بعد کہ پاکستان آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت سے میچ کھیلے، پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی اگلے تین چار دن میں پھر حکومت سے مشورہ لیں گے۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ نے جمعرات کے دن پی سی بی کو ایک ای میل بھیجی ہے جس میں انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان کی پرانے دوستانہ تعلقات کا واسطہ دیتے ہوئے پی سی بی سے گزارش کی ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں اپنا بائیکاٹ واپس لے لیں۔

سری لنکن بورڈ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان بھارت سے 15 فروری کو یا آگے نہیں کھیلتا تو اس سے سری لنکن کرکٹ بورڈ کو شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ بھی یاد دلایا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے برے وقت میں ہمیشہ سری لنکا نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

سری لنکن بورڈ نے ای میل میں واضح کیا ہے کہ 15 فروری کے میچ کے لیے ساری ٹکٹ بک چکی ہے اور یہاں تک کہ ہاسپٹلٹی باکسز وغیرہ بھی بک ہوچکے ہیں اور اگر یہ میچ نہیں ہوتا اور پاکستان بھارت سے نہیں کھیلتا تو مجموعی طور پر سری لنکن کرکٹ بورڈ کو بہت نقصان ہوگا۔

ذرائع نے بتایا اس ای میل کے موصول ہونے کے بعد محسن نقوی جو اس وقت ملک سے باہر ہیں، نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پھر سے حکومت سے مشورہ کریں گے کہ کیا کیا جائے؟۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے نومبر جس طرح سے سری لنکن حکومت بورڈ نے پی سی بی کا ساتھ دیا تھا جب ان کے کچھ کھلاڑی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے واپس اپنے ملک جانا چاہ رہے تھے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ذرائع نے بتایا کہ محسن نقوی وزیراعظم شہباز شریف سے پھر ملاقات کر کے ان سے درخواست کرسکتے ہیں کہ حکومت بھارت سے نہ کھیلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں کیونکہ اس میں لنکن کرکٹ بورڈ اور حکومت سے تعلقات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے دو دن میں محسن نقوی کے ساتھ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے دو ڈائریکٹرز مستقل رابطے میں ہیں اور ان کو منانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ ختم کردیں۔

حیران کن طور پر بھارتی میڈیا میں ان کے کچھ اخبارات یہ رپورٹ کر رہے ہیں کہ پاکستان نے سری لنکا کی درخواست رد کردی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US