پاکستان سپر لیگ کے فرنچائز پشاور زلمی اور ان کے مالک جاوید آفریدی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب سے انہوں نے اعلان کیا کہ پی ایس ایل 11 کے لیے انہوں نے افغانستان کے وکٹ کیپر بیٹسمین رحمان اللہ گرباز کو لے لیا ہے۔
بہت سارے پاکستانی کرکٹ شائقین نے سوشل میڈیا پر گرباز کو لینے پر جاوید آفریدی کو برا بھلا کہا ہے۔ شائقین کا کہنا یہ ہے کہ جس طرح سے افغانستان کے کھلاڑیوں نے ماضی میں پاکستان کے خلاف باتیں کی ہیں ان کو پی ایس ایل میں نہیں لینا چاہیے۔
شائقین نے یہ بھی یاد دلایا کہ ان کے بہت سارے کھلاڑی جس میں گرباز، نوین الحق اور مجیب الرحمان شامل ہیں، انہوں نے یہاں تک سوشل میڈیا پہ کہا تھا کہ یہ اب پاکستان جا کر پی ایس ایل میں نہیں کھیلیں گے۔
شائقین کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں پی ایس ایل 11 میں افغانستان کے کھلاڑیوں کو کسی فرنچائز کو نہیں لینا چاہیے۔
تاہم شائقین نے لاہور قلندرز کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے کہ انہوں نے پی ایس ایل 11 کے لیے بنگلا دیش کے مستفیض الرحمن کو تقریباً ساڑھے چھ کروڑ روپے میں سائن کرلیا ہے۔
مستفیض الرحمان کو بھارتی کرکٹ بورڈ نے انڈین پریمیئر لیگ سے باہر نکال دیا تھا جس کے بعد ورلڈ کپ کو لے کر تنازع کھڑا ہوگیا پاکستان، بنگلا دیش، بھارت اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے مابین، جس کی وجہ سے پاکستان نے بھارت سے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں میچ کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس چیز کو واضح کردیا تھا کہ پاکستان کا فیصلہ بنگلا دیش کرکٹ کے ساتھ یکجہتی کا بھی مظاہرہ ہے۔