ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کوئی بھی ٹیم کسی بھی بڑی ٹیم کو ہرا سکتی ہے، سلمان علی آغا

image

پاکستان نے جب پہلی اور آخری مرتبہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا اس وقت 2009 میں دنیائے کرکٹ کی ٹیمیں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کو سمجھ رہی تھیں اور پیر جمانے کی کوشش کررہی تھی۔

16 سال بعد اب ہر ٹیم ٹی ٹوئنٹی میں مہارت حاصل کرچکی ہے اور دنیائے کرکٹ کے سارے بورڈز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو پیسہ کمانے کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن پیسے سے زیادہ پاکستان کے کرکٹ شائقین کو اس چیز کا بے تابی سے انتظار ہے کہ کب ان کی ٹیم پھر سے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ گھر لے کر آئے گی۔

کل سے پاکستان کو پھر ایک موقع ملے گا کہ وہ اپنے لوگوں کو اور سپورٹرز کو مایوس نہ کریں اور کل سے شروع ہونے والے ورلڈ کپ میں اپنی بہترین پرفارمنسز دے۔

پاکستان کل کولمبو کی سنہالیز اسپورٹس کلب گراؤنڈ پر اپنا پہلا میچ نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گا اور کل ورلڈ کپ کے پہلے دن ہی دو میچز کلکتہ اور ممبئی میں کھیلے جائیں گے جس میں بھارت کی ٹیم یو ایس اے کا مقابلہ کرے گی۔ پہلی دفعہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 20 ٹیموں کو شامل کیا ہے جن میں سے آٹھ ایسوسی ایٹ ممبر ٹیمز ہیں لیکن کوئی بھی ایسی ٹیم نہیں جس کو ہلکا لیا جاسکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان، بھارت اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے درمیان چل رہے تنازع نے کرکٹ فینز کی توجہ اس مسئلے پر مرکوز کی ہوئی ہیں لیکن سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید کا کہنا ہے کہ جیسے ہی کل میچز شروع ہوں گے تمام شائقین کی نظر ان میچز کے رزلٹس پر ہوں گی خاص کر پاکستان اور نیدرلینڈز کا میچ۔

نیدرلینڈز کی ٹیم نے آج تک پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں شکست نہیں دی ہے اور آخری دفعہ ان دونوں ملکوں کا آمنا سامنا 2022 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا میں ہوا تھا جہاں پاکستان نے ایک کم اسکور والا میچ جیت لیا تھا۔ پاکستان نے جب 2009 میں ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا اس ٹورنامنٹ میں بھی پاکستان نے نیدرلینڈز کو شکست دی تھی۔

پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے پھر بھی اس چیز پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی ٹیم کو ورلڈ کپ میں آسان نہیں سمجھ رہے۔ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کوئی بھی ٹیم کسی بھی بڑی ٹیم کو ہرا سکتی ہے تو ہمیں ہر میچ میں بہترین کھیل پیش کرنا ہے، کیونکہ اب ہماری حکومت نے بھارت سے کھیلنے کو منع کیا ہے۔

پاکستانی کپتان سلمان کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ اب ان کی ٹیم کو اپنے گروپ میں تینوں میچز جیتنا بہت ضروری ہیں اگر وہ سپر ایٹ میں جانا چاہتے ہیں، جس کے لیے کھلاڑی اپنا بہترین کھیل پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان کی متوازن ٹیم میں ساری نظریں اسپنرز کی طرف ہیں کیونکہ حالیہ میچز جس میں آسٹریلیا کے خلاف بھی پچھلے ہفتے ہونے والی سیریز شامل ہے میں شاندار پرفارمنسز دی ہیں۔

سابق کرکٹرز اور شائقین کا خیال ہے کہ شاداب خان، محمد نواز، ابرار احمد، عثمان طارق اور صائم ایوب کسی بھی ٹیم کو تنگ کرسکتے ہیں جبکہ شاہین شاہ آفریدی جو ورلڈ کپ میں کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں نئی گیند کے ساتھ ابھی بھی وکٹ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ہارون رشید نے کہا کہ پاکستان کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ اپنے سارے میچز سری لنکا میں کھیل رہا ہے تقریباً سارے کھلاڑیوں کو سری لنکا میں کھیلنے کا بہت تجربہ حاصل ہے، اگر ہماری ٹیم سیمی فائنل تک نہیں پہنچ پائی تو مجھے حیرت ہوگی، انہوں نے کہا پاکستان کی بیٹنگ بھی کافی مضبوط تصور کی جا رہی ہے خاص کر جب سے کپتان سلمان نے اپنے کھیلنے کا انداز ہی بدل دیا ہے اور اب نمبر تین پر بیٹنگ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بابر اعظم کے لاکھوں چاہنے والوں کی دعا ہے کہ وہ اس ورلڈ کپ میں یہ ثابت کردے کہ وہ ہر فارمیٹ میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

پاکستان کے سابق کپتان محمد یوسف نے کہا کہ بابراعظم میں بہت زیادہ صلاحیتیں ہیں اور اس ٹورنامنٹ میں اگر وہ اپنا کھیلنے کا انداز تھوڑا سا بدلیں تو وہ سری لنکا میں بہت کامیاب ہوسکتے ہیں۔ ایک ٹیم کی ویلیو میں اور مانگ میں اسی وقت اضافہ ہوتا ہے جب وہ بڑے میچز اور ٹائٹل جیتتی ہے اور پاکستان کے پاس اس ورلڈ کپ میں یہ کرنے کا بہترین موقع ہے۔

یوسف نے کہا کہ اس ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے جو سب سے بڑا خطرہ ہے وہ موسم کی وجہ سے پیش آسکتا ہے کیونکہ سری لنکا میں اس وقت بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اب پاکستان کا آئرلینڈ کے خلاف وارم اپ میچ بھی بارش کی نذر ہوگیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد کہ پاکستان 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گا ضروری ہے کہ پاکستان کی ٹیم کو اپنے بقیہ تینوں میچز پوری طرح کھیلنے کا موقع ملے اور موسم کی وجہ سے کوئی ایک میچ بھی خراب نہ ہو۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US