انٹرنیشنل کرکٹ کونسل آج پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ اہم ورچوئل میٹنگ کرے گا جس میں یہ فیصلہ ہوگا کہ آیا پاکستان 15 فروری کو آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کولمبو میں میچ کھیلے گا یا نہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بھی میٹنگ میں حصہ لینے کے لیے لاہور پہنچ چکے ہیں۔ امین الاسلام نے محسن نقوی سے بھی بات چیت کی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے باضابطہ طور پر آئی سی سی کو بتا دیا ہے کہ ان کی حکومت نے ان کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ میں کھیلنے کی اجازت دی ہے مگر بھارت کے خلاف 15 فروری کو وہ میچ نہیں کھیلیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ پچھلے کچھ دنوں سے بیک ڈور چینل استعمال کیے جا رہے ہیں اور آئی سی سی کے کچھ ڈائریکٹرز پی سی بی کے چیئرمین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
دوسری طرف سری لنکن کرکٹ بورڈ نے بھی پی سی بی سے ایک ای میل میں درخواست کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں کیونکہ اگر پاکستان اور بھارت کا میچ نہیں ہوا تو ان کو مالی طور پر کافی نقصان ہوگا۔
لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر شمی سلوا نے پاکستان بورڈ کو یاد دلایا ہے کہ پچھلے نومبر میں سری لنکا کی حکومت اور بورڈ نے بھرپور طریقے سے پی سی بی کا ساتھ دیا تھا جب سری لنکا کے کچھ کھلاڑی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اسلام آباد سے واپس اپنے وطن جانا چاہ رہے تھے۔ شمی سلوا نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آج کی میٹنگ کے بعد ہی محسن نقوی وزیراعظم شہباز شریف سے ایک دفعہ پھر ملاقات کر کے حکومت سے ہدایت لیں گے کہ آیا 15 فروری کا میچ کھیلا جائے یا نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے آئی سی سی کو کئی ایسی مثالیں بتائی ہیں جس میں آئی سی سی نے پاکستان اور کچھ دوسرے کرکٹ بورڈز کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ پی سی بی نے آئی سی سی سے مالی معاملات پر بھی بات کی ہے۔
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر کا لاہور میں آنا اہم ہے کیونکہ سارا جھگڑا ہی اس وقت شروع ہوا جب بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے کہا کہ ان کے ورلڈ کپ میچز بھارت سے ہٹا دیے جائیں اور آئی سی سی نے ان کی یہ درخواست رد کردی۔