پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی آج وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے جس میں حکومت کے فیصلے پر نظر ثانی پر غور کیا جائے گا کہ آیا پاکستان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلے گا یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے اتوار کو آئی سی سی کے وائس چیئرمین عمران خواجہ اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام سے ملاقات میں پی سی بی کے موقف اور مطالبات واضح کر دیے ہیں۔ ان مطالبات میں کہا گیا ہے کہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی کی طرف سے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ سے باہر کرنے کا معاوضہ اور آئی سی سی کے اگلے مالی سال میں پاکستان کے حصے میں اضافہ کیا جائے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپین شپ میں پاکستان اور بھارت کے میچ ہونا شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے عمران خواجہ کو واضح کر دیا ہے کہ پی سی بی بھارت کی آئی سی سی میں اجارہ داری برداشت نہیں کرے گا اور پچھلے ایشیا کپ کے فائنل کے بعد پاکستان کی ٹیم کے رویے جیسے مسائل کو بھی اجاگر کیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ دیں گے اور فیصلہ حکومت کے اختیار میں چھوڑ دیں گے کہ آیا پاکستان 15 فروری کے بعد بھارت کے خلاف میچ کھیلے گا یا نہیں۔ محسن نقوی نے آئی سی سی پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر حکومت اجازت نہیں دے گی تو پی سی بی بھارت سے میچ نہیں کھیلے گا چاہے اس کے عالمی کرکٹ پر کوئی بھی اثرات ہوں۔
ذرائع کے مطابق سری لنکن اور امارات کرکٹ بورڈ نے پاکستان کو اپنا بائیکاٹ ختم کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی کہا کہ پاکستان کو بھارت سے میچ کھیلنا چاہیے تاکہ دنیائے کرکٹ کے مستقبل کو تحفظ مل سکے۔