عثمان طارق نے پہلے میچ میں ہی تہلکہ مچادیا، بھارتی کھلاڑی خوفزدہ

image

پاکستان کے اسپنر عثمان طارق نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے پہلے ہی میچ میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ یہاں تک کہ بھارت سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں کہ آئی سی سی کو ان کے بالنگ ایکشن کی وجہ سے نہیں کھیلنے دینا چاہیے۔

منگل کے روز یو ایس اے کے خلاف کھیلے جانے والے میچ میں عثمان طارق نے 27 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں اور ان کی بالنگ کو بیٹسمین سمجھنے سے قاصر رہے۔

چونکہ پاکستان نے 15 فروری کو بھارت کے ساتھ میچ کھیلنا ہے تو بھارت میں ان کے سابق کھلاڑی، یوٹیوبرز اور صحافی ابھی سے عثمان طارق کے بالنگ سے خوف کھائے ہوئے ہیں مگر بھارت کے مایہ ناز اسپنر روی چندر اشون نے عثمان طارق کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ عثمان طارق کے ایکشن میں کوئی خامی نہیں لیکن کیونکہ وہ کریس پر رک کر گیند ڈالتے ہیں تو بیٹسمینوں کو مشکل پیش آرہی ہے اور وہ اس وجہ سے پریشان ہیں۔

اشون نے کہا کہ جن لوگوں کو آئی سی سی قوانین کا نہیں پتہ وہ فضول کی باتیں کر رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر بیٹسمین ہر قسم کے شارٹ کھیل سکتا ہے یہاں تک کہ سیدھے اور بائیں ہاتھ سے اپنا بیٹنگ سٹانس بدل سکتا ہے تو بالر کیوں نہیں تھوڑا رک کر بالنگ کرسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عثمان طارق کے بالنگ ایکشن کو اگر آئی سی ٹیسٹ بھی کرے گی تو اس میں کوئی خامی نہیں نکلے گی۔

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان معین خان کا کہنا ہے کہ کیونکہ عثمان طارق ٹی ٹوئنٹی میں خطرناک بالر ثابت ہو رہے ہیں اس لیے بھارت میں سب کو پریشانی ہے کہ 15 فروری کے میچ میں یہ کتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

عثمان طارق کا ایکشن پچھلے سال پی ایس ایل کے بعد دو دفعہ ٹیسٹ ہو چکا ہے اور کلیئر بھی ہو چکا ہے مگر اس کے باوجود ان کے ایکشن پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ یکم فروری کو ہونے والے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان لاہور میں ٹی ٹوئنٹی میچ میں جب عثمان نے آسٹریلیا کے کھلاڑی کیمرون گرین کو آؤٹ کیا تو وہ جاتے جاتے اشارے سے ان کے بالنگ ایکشن پر سوالات اٹھائے جس کے بعد سے یہ معاملہ پھرطول پکڑ گیا ہے۔

پاکستان کے سابق بیٹسمین اور ہیڈ کوچ محسن خان کا کہنا ہے کہ بھارت میں خوف طاری ہے کہ کیا ان کے بیٹسمین عثمان طارق کی بالنگ کو سمجھ پائیں گے یا نہیں؟ اس لیے اتنا شور مچا رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US