ٹرمپ پر بات چیت جھگڑے میں بدل گئی، والد نے بیٹی کی جان لے لی

image

امریکی ریاست ٹیکساس میں برطانوی نژاد 23 سالہ لوسی ہیریسن کو مبینہ طور پر اس کے والد نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق بحث کے بعد پیش آیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لوسی ہیریسن، جو برطانوی شہر وارنگٹن کے علاقے چیشائر سے تعلق رکھتی تھیں گزشتہ برس 10 جنوری کو اپنے والد کرس ہیریسن کے ہاتھوں گولی لگنے سے ہلاک ہوئیں۔ ابتدائی طور پر واقعے کو ممکنہ غیر ارادی قتل قرار دے کر تفتیش کی گئی، تاہم کولن کاؤنٹی کی گرینڈ جیوری نے کرس ہیریسن پر فردِ جرم عائد کرنے سے انکار کر دیا جس کے باعث ان کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔

لوسی ہیریسن کی موت سے متعلق سماعت چیشائر کورونر کورٹ میں جاری ہے جہاں مقتولہ کے بوائے فرینڈ سیم لٹلر نے اہم گواہی دی۔ ان کے مطابق وہ دونوں امریکا میں چھٹیاں گزار رہے تھے اور 10 جنوری کی صبح لوسی اور ان کے والد کے درمیان امریکی صدر ٹرمپ، جو اس وقت دوسری مدت کے لیے حلف اٹھانے کی تیاری کر رہے تھے کے حوالے سے شدید بحث ہوئی۔

سیم لٹلر کے بیان کے مطابق بحث کے دوران لوسی نے اپنے والد سے ایک حساس سوال کیا جس پر دونوں کے درمیان تلخی بڑھ گئی۔ بعد ازاں لوسی دل برداشتہ ہو کر اوپر چلی گئیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایئرپورٹ روانگی سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل لوسی کچن میں موجود تھیں جب ان کے والد انہیں اپنے گراؤنڈ فلور بیڈروم میں لے گئے۔ تقریباً 15 سیکنڈ بعد گولی چلنے کی آواز آئی۔

سیم لٹلر کے مطابق وہ فوراً کمرے کی جانب دوڑے تو لوسی کو باتھ روم کے دروازے کے قریب فرش پر گرا ہوا پایا جبکہ کرس ہیریسن چیخ رہے تھے اور بے ربط گفتگو کر رہے تھے۔

عدالتی کارروائی کے دوران مقتولہ کی والدہ نے بھی بیان دیا کہ فائرنگ کے وقت وہ کمرے میں موجود تھیں اور گولی چلانے والا واحد شخص کرس ہیریسن تھا۔عدالت کی جانب سے آئندہ سماعت میں حتمی نتائج سنائے جانے کی توقع ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US