چین میں شہری زندگی اور کارپوریٹ دباؤ سے تنگ آ کر ایک خاتون نے بڑی کمپنی کی اعلیٰ ملازمت چھوڑ کر غیر آباد جزیرے میں رہائش اور ملازمت اختیار کر لی۔
بیجنگ کی ایک بڑی کمپنی میں دو دہائیوں تک سینیئر منیجر کے طور پر کام کرنے والی یو لی دسمبر 2025 سے ایسٹ چائنا سی میں واقع ڈونگ زائی نامی غیر آباد جزیرے میں کام کر رہی ہیں۔ یہاں وہ فش فیڈنگ بیس میں کوالٹی انسپکٹر کے فرائض انجام دے رہی ہیں اور انہیں ماہانہ تقریباً 3 ہزار یوآن تنخواہ ملتی ہے۔
جزیرے کے اردگرد بھی کئی غیر آباد جزائر موجود ہیں جبکہ قریبی آبادی تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع ہے۔ یو لی کا کام مچھلیوں کو خوراک فراہم کرنے والے آلات کی جانچ پڑتال، پانی کے درجہ حرارت اور سمندری لہروں کی رفتار ریکارڈ کرنا اور مچھلیوں کی افزائش کی نگرانی کرنا ہے۔
یو لی نے سوشل میڈیا پوسٹس میں بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ مسلسل کام کے دباؤ کے باعث کیا۔ ان کے مطابق وہ سال میں تقریباً 300 دن کاروباری دوروں پر رہتی تھیں جبکہ بیجنگ میں قیام کے دوران روزانہ چار گھنٹے دفتر اور گھر کے درمیان سفر میں گزرتے تھے، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت شدید متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا یہ وہ زندگی ہے جو میں واقعی چاہتی ہوں؟ بعد ازاں صوبہ ژیجیانگ میں جزیرے پر ملازمت کا اشتہار دیکھ کر انہوں نے درخواست دے دی کیونکہ وہ مصروف شہری زندگی سے اکتا چکی تھیں۔
یو لی کے مطابق وہ اپنا زیادہ تر وقت مطالعہ کرنے، سمندر کے کنارے بیٹھنے اور سورج غروب ہوتے دیکھنے میں گزارنا چاہتی تھیں۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ غیر آباد جزیرے میں ابتدائی ایک ماہ کافی مشکل رہا۔ ایک موقع پر طوفانی ہواؤں کے باعث وہ کھانا پکانے کے لیے آگ بھی نہ جلا سکیں جبکہ جزیرے میں چوہوں کی کثرت بھی ایک مسئلہ ہے۔
مشکلات کے باوجود یو لی کا کہنا ہے کہ وہ اس پُرسکون زندگی سے لطف اندوز ہو رہی ہیں کیونکہ اب انہیں اپنے پسندیدہ مشاغل کے لیے بھرپور وقت میسر ہے۔