افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے افغانستان کے کم از کم پانچ کھلاڑیوں نے پاکستان سپر لیگ کی گیارہویں ایڈیشن کے آکشن سے اپنے نام واپس لے لیے۔
پی ایس ایل کی ایک فرنچائز کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ آکشن سے پہلے پاکستان اور افغانستان کے کرکٹ شائقین کا جو رد عمل اس وقت آیا تھا جب پشاور زلمی نے افغانستان کے رحمان اللہ گرباز کو ڈائریکٹ سائن کیا تھا جس کی وجہ سے افغانستان کے دیگر کھلاڑیوں نے بہتر سمجھا کہ وہ پی ایس ایل 11 حصہ نہ بنیں۔
ان کھلاڑیوں میں فضل حق فاروقی، مجیب الرحمن، محمد نبی، صدیق اللہ اتل اور وقار سلام خیل شامل تھے۔ ان سب نے پی ایس ایل 11 کے آکشن میں اپنا نام ڈلوایا تھا مگر آکشن سے دو دن قبل انہوں نے اپنے نام واپس لے لیے۔
پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق افغانستان کے کچھ کھلاڑیوں نے آکشن کے لیے نام تو دیے تھے مگر بدھ کے روز ہونے والی آکشن میں ان کے نام تھے یا نہیں ان کو اس کا پتہ نہیں، یا پھر فرنچائزز نے ان کو نہیں لیا ہوگا۔
یاد رہے کہ جب پشاور زلمی نے گرباز کو ڈائریکٹ سائن کیا تھا تو اس کے بعد افغانستان اور پاکستان کے کرکٹ شائقین پھٹ پڑے اور کشیدہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے پی ایس ایل کی فرنچائزز کو تنبیہ کی کہ وہ افغانستان کا کوئی پلیئر نہ لے۔ اس سے پہلے پی ایس ایل میں افغانستان کے کھلاڑی باقاعدگی سے مختلف ٹیموں کا حصہ رہے جن میں ان کے کپتان راشد خان بھی لاہور قلندر سے کافی بار کھیل چکے ہیں۔