بنگال کی بزرگ خاتون جس نے اپنا ہوٹل بچانے کے لیے ساری عمر گزار دی

image

اکثر اوقات لاجواب کھانوں کی کہانیاں بڑے اور دلکش ریسٹورنٹس سے نہیں بلکہ سادہ اور معمولی باورچی خانوں سے جنم لیتی ہیں۔ حال ہی میں انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو نے ایک بار پھر یہ حقیقت لوگوں کو یاد دلائی ہے۔

بھارتی ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کے مطابق بنگال سے تعلق رکھنے والی 70 سالہ بزرگ خاتون ایک خستہ حال ہوٹل تن تنہا چلا رہی ہیں جہاں وہ کھانا فروخت کر کے چند پیسے کما لیتی ہیں۔ ان کی ثابت قدمی نے ہزاروں افراد کو متاثر کیا ہے۔

ارادھنا چٹرجی نامی ایک انسٹاگرام صارف نے خاتون کی ویڈیو شیئر کی۔ اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں انہوں نے صارفین کو بزرگ خاتون دیپالی گھوش سے متعارف کرایا، جو اپنے چاول کے چھوٹے سے ہوٹل کو چلانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔

ارادھنا کے مطابق شوہر کے انتقال کے بعد دیپالی گزشتہ 30 برس سے چاول فروخت کر رہی ہیں، مگر اب ان کے پاس بمشکل روزانہ پانچ گاہک ہی آتے ہیں۔

انسٹاگرام صارف نے بتایا کہ دیپالی تمام کام خود انجام دیتی ہیں۔ وہ خود ہی اشیائے خورد و نوش خریدتی ہیں، کھانا پکاتی ہیں، برتن دھوتی ہیں، دکان کی صفائی کرتی ہیں اور کاروبار کے معاملات سنبھالتی ہیں۔

ویڈیو میں دکھایا گیا کہ وہ اُسی تنگ جگہ میں رہتی اور سوتی بھی ہیں۔ دکان کی حالت خستہ ہے، پرانے برتن، دھوئیں سے سیاہ دیواریں، ٹپکتی ہوئی چھت اور بکھرا ہوا سامان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس جگہ کو فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

ارادھنا کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن کے بعد دیپالی کی طبی حالت مزید خراب ہو گئی۔ ان کی سماعت کمزور ہو چکی ہے اور انہیں خوراک اور ادویات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔ وہ اولڈ ایج ہوم جانا نہیں چاہتیں کیونکہ وہ باعزت طریقے سے روزی کمانا اور اپنی دکان کو جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ انہیں کسی خاندانی تعاون کی سہولت بھی میسر نہیں۔

اپنی پوسٹ کے کیپشن میں ارادھنا نے اپنے فالوورز سے اپیل کی کہ ہم اس چھوٹی سی دکان کی تزئین و آرائش کریں گے کیونکہ یہی ان کا گھر بھی ہے اور کاروبار بھی ہے۔ آئیے سب مل کر اسے ممکن بنائیں تاکہ انہیں کم از کم اتنے گاہک مل سکیں کہ وہ خود کو اور اپنے ہوٹل کو سنبھال سکیں۔

انٹرنیٹ صارفین نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اُن کی کہانی کو متاثر کن قرار دیا اور مدد، عطیہ دینے یا ذاتی طور پر ملاقات کرنے کے طریقوں کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔ کئی افراد نے ان کی ہمت کو سراہا جبکہ بعض نے ویڈیو دیکھ کر دکھ اور شکرگزاری دونوں کا اظہار کیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US