بنگلا دیش انتخابات: بی این پی کی دو تہائی اکثریت، حکومت سازی کا مینڈیٹ حاصل

image

بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں (بی این پی) نے میدان مار لیا اور دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق بی این پی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے 299 میں سے 209 نشستیں جیت لی ہیں۔ غیر مصدقہ نتائج کے مطابق پارٹی نے 151 نشستیں براہ راست اپنے نام کیں۔

بی این پی کی قیادت وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان کر رہے ہیں جو ڈھاکا اور بوگرہ دونوں نشستوں سے کامیاب قرار پائے ہیں۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جماعت اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے 70 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل نیشنل سٹیزن پارٹی صرف 5 نشستیں حاصل کرسکی۔

طارق رحمان نے کامیابی کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں امن عامہ کا قیام پہلی ترجیح ہوگا تاکہ عوام خود کو محفوظ محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور نئی حکومت خواتین کی فلاح پر خصوصی توجہ دے گی۔انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ جشن یا ریلیوں سے گریز کریں اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے رہنما شفیق الرحمان نے بعض حلقوں میں نتائج میں تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری نتائج کے بعد ردعمل دیا جائے گا اور تعمیری سیاست کو فروغ دیا جائے گا۔

بنگلادیش میں عام انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی منعقد ہوا۔ ڈھاکا سے موصولہ ابتدائی نتائج کے مطابق 73 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا۔ریفرنڈم میں عوام کو ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ کا انتخاب دینا تھا جس کے ذریعے ملک کے مستقبل کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریفرنڈم میں جولائی نیشنل چارٹر کے تحت وسیع آئینی اصلاحات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US