سابق اولمپینز نے آسٹریلیا میں قومی ہاکی ٹیم کو درپیش سفری اور لاجسٹک مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی سطح پر انکوائری کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پاکستان ہاکی ٹیم اس وقت ہوبارٹ میں ایف آئی ایچ پرو لیگ میں شرکت کر رہی ہے، تاہم ٹیم اب تک چار میں سے تین میچز آسٹریلیا اور جرمنی کے خلاف ہار چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق ناقص انتظامات نے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بھی متاثر کیا۔
اطلاعات کے مطابق ٹیم کو ویزوں کے اجرا میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سڈنی ایئرپورٹ پر کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کو 13 سے 14 گھنٹے بغیر کسی مناسب ہوٹل یا کھانے کے انتظام کے انتظار کرنا پڑا۔ بعد ازاں ہوبارٹ پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ہوٹل بکنگ ادائیگی نہ ہونے کے باعث منسوخ ہو چکی ہے۔
کھلاڑیوں اور کوچز کو تین سے چار گھنٹے تک ہوٹل لابی اور سڑک پر انتظار کرنا پڑا، جس کے بعد مقامی پاکستانی کمیونٹی کی مدد سے کچھ کھلاڑیوں کے لیے عارضی طور پر ایئر بی این بی میں رہائش کا انتظام کیا گیا، جہاں تین سے چار کھلاڑی ایک کمرے میں قیام کرنے پر مجبور ہوئے۔
سابق اولمپینز سمیع اللہ خان، حسن سردار، اور وسیم فیروز،فرحت خان نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کا حکم دیں۔
سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں کھلاڑیوں سے بہترین کارکردگی کی توقع رکھنا ناانصافی ہے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔