ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ٹیم مینجمنٹ اور سینئر کھلاڑیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اگلے میچ میں بڑے ناموں کو آرام دینے کا مطالبہ کر دیا۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر وہ کپتان ہوتے تو نمیبیا کے خلاف آئندہ میچ میں بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان کو باہر بٹھا کر نئے کھلاڑیوں کو موقع دیتے۔
انہوں نے کہا کہ سینئر کھلاڑی طویل عرصے سے ٹیم کا حصہ ہیں لیکن اگر اہم میچز میں کارکردگی نہ دکھا سکیں تو ٹیم میں ان کی موجودگی کا جواز باقی نہیں رہتا۔ آفریدی کے مطابق نوجوان کھلاڑیوں کو اعتماد اور مواقع دینے سے ٹیم کی بینچ اسٹرینتھ مضبوط ہو سکتی ہے۔
سابق کپتان نے میچ کے دوران فیصلوں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فہیم اشرف سے بولنگ نہ کروانا سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ عثمان طارق کو بہت دیر سے اٹیک پر لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اہم مقابلے میں حکمت عملی اور بروقت فیصلے نہایت اہم ہوتے ہیں۔
سابق فاسٹ بالر شعیب اختر، سابق کپتان معین خان، اسپنر محمد یوسف اور ثقلین مشتاق نے بھی ٹیم کی پرفارمنس پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ اب وقت ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے۔
محمد یوسف نے کہا کہ "شاید وقت آ گیا ہے کہ بابر اور شاہین ٹی ٹونٹی کرکٹ کو خدا حافظ کہیں" جبکہ سابق اوپنر احمد شہزاد نے بھی بابر کو مشورہ دیا کہ وہ مزید ٹی ٹونٹی کرکٹ نہ کھیلیں۔
معین خان نے کہا کہ ہم بار بار کسی بھی بڑے ایونٹ سے پہلے وہی پرانے کھلاڑی آزماتے ہیں اور ناکام ہو جاتے ہیں، اس سے بہتر ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے۔ شعیب اختر نے مزید کہا کہ بھارت کے خلاف ٹیم نے اپنی توقعات پر پورا نہیں اترے کیونکہ کھلاڑی بڑے میچز میں کریکٹر نہیں دکھا پاتے۔
سابق کپتان محمد حفیظ نے کہا کہ اگرچہ بھارت کے خلاف شکست ہوئی، لیکن پاکستان سپر ایٹ کے لیے کوالیفائی کر جائے گا اور اب ٹیم کے ہاتھ میں ہے کہ وہ باقی ورلڈ کپ میں کیسے پرفارم کرتی ہے۔
سابق کپتان انضمام الحق نے کہا کہ پاکستان نے بولنگ بیلنس خراب کر دیا، صرف ایک فاسٹ بالر اور چھ سپنرز کے ساتھ بھارت کے خلاف جانا درست نہیں تھا۔ بیٹسمین 18 اوورز تک سپنرز کھیلنے پر مجبور ہو گئے اور یہی کل کے میچ میں ہوا۔
واضح رہے کہ بھارت نے 176 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ لائن کو دباؤ میں رکھا، جہاں عثمان خان کے علاوہ کوئی بھی بیٹر خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکا اور ٹیم کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔