بھارت کے علاقے اڈیشا میں شدید جُووں کے انفیکشن کے باعث ایک چھٹی جماعت کی طالبہ لکشمی پریا کی موت ہو گئی۔
خاندان کے مطابق لکشمی کئی ماہ سے جُووں کے انفیکشن کا شکار تھی اور متعدد علاج کے باوجود اس کی حالت میں بہتری نہ آئی۔ والدہ نے حفاظتی اقدام کے طور پر بچی کے بال کاٹنے کا کہا لیکن بچی نے اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔
وقت کے ساتھ انفیکشن بڑھ گیا اور سر پر اس کے اثرات شدید ہو گئے۔ بچی نے باہر جانے سے گریز کرنا شروع کر دیا اور اپنے بال ڈھانپ کر رکھے، جس کی وجہ سے خاندان کو انفیکشن کی شدت کا علم نہیں ہو سکا۔
رپورٹس کے مطابق بچی کو موت سے تین دن قبل خون کی قے ہونے لگی، اور شدید بیمار ہونے پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال میں علاج کے باوجود وہ زندگی کی بازی نہ جیت سکی۔
بچی کی والدہ نے بتایا کہ انفیکشن کے بعد لکشمی نے اپنا سر ڈھانپ کر رکھا اور انہیں اپنے حالات دکھائے نہیں جس کی وجہ سے بروقت علاج ممکن نہیں ہو سکا۔