پاکستان کی ٹیم کو اتوار کو بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچ میں شکست کے بعد نہ صرف پاکستانی شائقین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ بھارت کے سابق کھلاڑی بھی بابر اعظم اور دیگر پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر برہم نظر آئے۔
بھارت کے سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے سوال اٹھایا کہ پاکستان ہمیشہ بابر اعظم پر بھروسہ کرتا ہے کہ وہ بڑے میچ جیتیں گے، مگر وہ اکثر ٹیم کو مایوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا مجھے بتائیں کہ بابر اعظم نے کب ورات کوہلی کے خلاف پاکستان کو کوئی بڑی جیت دلوائی ہے؟
اسی طرح بھارت کے سابق کرکٹر محمد کیف نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جب تک یہ کھلاڑی بڑی ٹیموں کے خلاف پرفارم نہیں کریں گے، انہیں یاد نہیں رکھا جائے گا۔ انہوں نے پاکستانی شائقین کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی کیونکہ وہ بار بار بھارت کے خلاف اپنی ٹیم کو ہارتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
بھارت کے اسپنر پٹیل نے کہا کہ اب بھارت کی ٹیم پاکستان کے خلاف میچ کو کوئی "بڑا میچ" نہیں سمجھتی اور دونوں ٹیموں کو ایک عام ٹیم کی طرح دیکھتی ہے۔ پاکستان کی شکست کے بعد بھارت میں جشن کا ماحول رہا۔
سابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین توقیر ضیا نے افسوس کا اظہار کیا کہ کھلاڑی بھارت کے خلاف اتنی لگن اور جوش نہیں دکھا پائے جتنا کہ کرکٹ بورڈ نے دکھایا۔ انہوں نے کہا کاش ہمارے کھلاڑی بھی کل اسی جوش و جذبے کے ساتھ بھارت کا مقابلہ کرتے۔
معروف کاروباری اور پروڈکشن ایجنسی کے مالک پرویز میر نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان اسی طرح بھارت سے مسلسل ہارتا رہا تو آئی سی سی میں ان میچز کی مالیاتی قدر کم ہو جائے گی، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر کرکٹ بورڈز کو بھی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ شائقین یکطرفہ مقابلے نہیں چاہتے اور بھارت اور پاکستان کے میچز ہر بار سنسنی خیز ہونے چاہئیں۔