اتوار کے دن آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ میں بھارت سے شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ شائقین اور سابق کھلاڑی سب ہی ٹیم سے ناراض ہیں مگر وہ کون سے غلط فیصلے تھے جس کی وجہ سے ٹیم کو 61 رن سے شکست ہوئی۔
سب سے پہلے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ غلط ثابت ہوا کیونکہ عموماً بڑے میچز میں ٹیمیں ٹاس جیت کر کوشش کرتی ہے کہ پہلے بیٹنگ کر کر کسی ہدف کا تعاقب کرنے کے پریشر سے اپنے اپ کو بری کرلیں۔
دوسری غلطی میچ میں صرف ایک فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ جانا اور اس پر آل راؤنڈر فہیم اشرف سے گیند نہ کرانا بہت مہنگا ثابت ہوا۔
تیسرا اسپنر عثمان طارق جن سے بھارت کی ٹیم خوفزدہ تھی ان کو گیارہویں اوور تک بالنگ نہ کرانا۔ جب ایشان کشن بھارت کے لیے 77 رنز کی زبردست اننگز کھیل رہے تھے پاکستانی کپتان کو اسی وقت عثمان طارق کو بالنگ دینی چاہیے تھی ان کو بہت دیر سے لایا گیا۔
چوتھا شاہین شاہ آفریدی کو آخری اوور دینا جبکہ یہ بات سب پر واضح ہے کہ شاہین آج کل بہت زیادہ رنز دے رہے ہیں۔ ان کے آخری اوور میں 16 رنز بنے جس کی وجہ سے بھارت نے اپنا ٹوٹل 175 تک پہنچا دیا جو کسی بڑے میچ میں دوسری باری میں کرنا مشکل ہوتا ہے۔
پانچویں غلطی بابر اعظم کی طرف سے آئی جب انہوں نے ایک بہت ہی گندا شارٹ کھیل کر پاور پلے میں آؤٹ ہوگیا۔ تین وکٹیں گرنے کے باوجود اگر بابر اس وقت سنبھل کر کھیلتا تو شاید پاکستان پھر بھی میچ جیتنے کی امید کرسکتا تھا۔
یہ ساری غلطیاں جب بڑے میچ میں کی جاتی ہیں تو نتیجہ پھر شکست کی صورت میں ہی آتا ہے۔