کابل میں منعقد ہونے والی پانچ روزہ بین الاقوامی صنعتی نمائش میں افغان خواتین نمائندگان کی شرکت پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
افغان جریدے "دی افغانستان انٹرنیشنل" کے مطابق تیسری بین الاقوامی کابل نمائش میں کاروباری خواتین کو شرکت سے روک دیا گیا، جبکہ افغان پولیس نے خواتین کو نمائش کے مقام میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے خواتین پر عائد پابندیاں مسلسل سخت ہوتی جا رہی ہیں، جن میں تعلیم، سرکاری و نجی دفاتر میں کام اور سماجی سرگرمیوں میں شرکت پر پہلے ہی متعدد پابندیاں نافذ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کو منظم انداز میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی زندگی سے الگ کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین نے اس اقدام کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین پر بڑھتی ہوئی پابندیاں طالبان حکومت کی پالیسیوں کی واضح عکاس ہیں۔