امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے ایران سنگین نتائج سے بچنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ ڈیل نہ کرنے کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری نیوکلیئر مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل ہوں گے اور یہ بات چیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایک مؤثر اور مضبوط معاہدہ چاہتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ان کے اعلیٰ معاونین اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر جنیوا روانہ ہو چکے ہیں جہاں آج امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر دوسرے مرحلے کی بات چیت متوقع ہے۔
ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کو سخت ڈیلرز قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ لچک کا مظاہرہ کریں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے ایران کی بعض جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امن کا عمل غزہ سے آگے بڑھے گا اور وہ چاہتے ہیں کہ بورڈ آف پیس، اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں غیر ملکی میڈیا پر پابندیوں سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا تاہم کہا کہ جلد کئی پابندیاں اٹھتی نظر آئیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں مجموعی طور پر امن ہے۔