امریکا اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے اور دیگر اہم امور پر آج اہم مذاکرات متوقع ہیں، جنہیں خطے اور عالمی سلامتی کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مذاکرات سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ سے ملاقات کی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور جاری تنازع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران یورینیئم کی افزودگی مکمل طور پر روکنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ عالمی جوہری ادارے کے سربراہ نے ایران سے اپنے یورینیئم ذخائر کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اپنی دفاعی تیاریوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں شروع کردی ہیں۔ ان مشقوں کے دوران سمندر سے سمندر اور فضاء سے سمندر میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات اور فوجی مشقیں ایک حساس مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کے نتائج خطے کی سلامتی اور عالمی جوہری پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔