پاکستان کی ٹیم کل آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنا آخری گروپ اے کا میچ نمیبیا کے خلاف کھیلے گی۔
اتوار کے دن بھارت سے شکست کے بعد پاکستان کا ورلڈ کپ میں یہ پہلا میچ ہوگا اور کرکٹ شائقین بے صبری سے یہ دیکھنا چاہ رہے ہیں کہ کیا سینئر کھلاڑی بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان ٹیم کا حصہ ہوں گے یا نہیں۔
بھارت سے ہار کے بعد کرکٹ شائقین اور بہت سارے سابق کھلاڑیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بابر اور شاہین کو اب آگے میچز نہ کھلائے جائیں کیونکہ ان کو کافی مواقع پہلے ہی مل چکے ہیں لیکن یہ بار بار اپنی پرفارمنسز سے سب کو مایوس کرتے ہیں۔
پاکستان اپنے گروپ میں تین میں سے دو میچ جیت چکا ہے اور سپر ایٹ مرحلے کے لیے تقریباً کوالیفائی کرچکا ہے لیکن اگر نمیبیا کے خلاف کوئی اپسیٹ رزلٹ آتا ہے تو پھر یو ایس اے کی ٹیم بھی سپر ایٹ کے دور میں شامل ہوجائے گی۔
امید کی جا رہی ہے پاکستان کل دوسرے کھلاڑیوں کو چانس دے گا جیسے خواجہ نافع، سلمان مرزا اور فخر زمان۔ مگر ان کو کھلانے کے لیے ٹیم مینجمنٹ کو بابر اور شاہین کو تو بٹھانا پڑے گا۔
میچ سنہالیز اسپورٹس گراؤنڈ پر ہے جہاں پاکستان اپنے پہلے دو میچز کھیل چکا ہے تو ان کو پچ کی کنڈیشنز کا بخوبی اندازہ ہے مگر کیونکہ میچ دن میں کھیلا جا رہا ہے تو بیٹسمین کے لیے سازگار کنڈیشنز ہوسکتے ہیں۔
کپتان سلمان علی آغا کے لیے یہ میچ بہت اہم ہے کیونکہ اب تک ورلڈ کپ کے تینوں میچز میں تین نمبر پر آتے ہوئے تینوں دفعہ وہ ناکام رہے ہیں اور ان کا اس پوزیشن پر رنز کرنا بہت ضروری ہے۔
نمیبیا کی ٹیم ایسوسی ایٹ ممبرز میں سے ہے مگر جو میچ اب تک ورلڈ کپ میں کھیلا ہے اس میں انہوں نے یہ چیز دکھائی ہے کہ ان کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔