پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے پی ایچ ایف کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا اور آسٹریلیا میں مبینہ ناقص انتظامات پر کھل کر تنقید کی۔
ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عماد شکیل بٹ نے الزام عائد کیا کہ کھلاڑیوں کو ٹور کے دوران میڈیا سے بات کرنے سے روکا گیا اور دھمکی دی گئی کہ اگر کسی نے گفتگو کی تو اس پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی غیر منصفانہ کوڈ آف کنڈکٹ کو تسلیم نہیں کرتے اور اب وقت آ گیا ہے کہ کھلاڑی اس طرز عمل کے خلاف آواز اٹھائیں۔
کپتان نے مزید انکشاف کیا کہ کھلاڑیوں کو میچ سے قبل کچن صاف کرنے اور برتن دھونے جیسے کام بھی کرنے پڑے، جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق آسٹریلیا میں رہائش اور دیگر سہولیات کے انتظامات انتہائی ناقص تھے اور فیڈریشن کی جانب سے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔
عماد شکیل بٹ نے کہا کہ قومی ٹیم کو فوری طور پر غیر ملکی کوچ کی ضرورت ہے اور فیڈریشن کی جانب سے آسٹریلیا میں بھیجے گئے عہدیداروں کے بیانات حقیقت کے برعکس ہیں۔
دوسری جانب پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل نور صبا نے ایئرپورٹ پر میڈیا کو بتایا کہ تمام معاملات وزیراعظم کے نوٹس میں آ چکے ہیں اور انہوں نے پی ایس بی سے انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ رپورٹ جلد وزیراعظم کو پیش کی جائے گی جس کے بعد مزید فیصلے کیے جائیں گے۔
ڈی جی پی ایس بی نے تصدیق کی کہ پی ایچ ایف کو کھلاڑیوں کی کینبرا، آسٹریلیا میں ہوٹل رہائش کے لیے ایک کروڑ روپے سے زائد رقم فراہم کی گئی تھی تاہم مبینہ طور پر آخری وقت میں ہوٹل بکنگ منسوخ کر دی گئی جس کے باعث کھلاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔