افغان طالبان حکومت نے خواتین اور بچوں پر گھریلو تشدد کو مخصوص شرائط کے تحت قانونی حیثیت دے دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیا فوجداری ضابطہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللّٰہ اخوندزادہ کے دستخط کے بعد نافذ کیا گیا ہے۔
نئے قانون کے تحت شوہر اپنی بیوی اور بچوں کو جسمانی سزا دے سکتا ہے لیکن ایسی سزا میں اتنی طاقت استعمال نہیں ہونی چاہیے کہ ہڈیاں ٹوٹیں یا زخم آئیں۔ اگر شدید تشدد سے واضح چوٹیں آئیں تو شوہر کو زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا ہو سکتی ہے لیکن صرف اسی صورت میں جب متاثرہ خاتون عدالت میں تشدد ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے اور عدالت میں شوہر یا مرد سرپرست موجود ہو۔
قانون کے دیگر شقوں کے مطابق شادی شدہ خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر رشتہ داروں سے ملے تو اسے تین ماہ تک قید ہو سکتی ہے۔
افغان معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے علماء، اشرافیہ، متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ۔ جرم کی سزا طبقات کی سماجی حیثیت کی بنیاد پر دی جائے گی۔
سنگین جرائم کی صورت میں جسمانی سزا اصلاحی اداروں کی بجائے مذہبی علماء کے ذریعے دی جائے گی۔
90 صفحات پر مشتمل نئے ضابطے کے تحت 2009ء میں متعارف کرایا گیا خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا قانون منسوخ کر دیا گیا جو سابق امریکی حمایت یافتہ حکومت کے دور میں نافذ تھا۔