بھارت کی ایک نجی یونیورسٹی کو عالمی سطح کے مصنوعی ذہانت سمٹ میں سُبکی کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے چینی ساختہ روبوٹ کتے کو اپنی ایجاد ظاہر کیا۔
رپورٹس کے مطابق گالگوٹیاز یونیورسٹی نوئیڈا کے طلبہ نے اے آئی امپیکٹ سمٹ میں چار ٹانگوں والے روبوٹ ڈاگ کو اورین کے نام سے پیش کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ روبوٹ ان کے انڈسٹری کولیبریٹو حب میں تیار کیا گیا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین نے فوری طور پر نشاندہی کی کہ یہ دراصل چینی کمپنی یونیٹری کا تیار کردہ Go2 روبوٹ ہے جو تجارتی بنیادوں پر دستیاب ہے۔
اس انکشاف کے بعد یونیورسٹی پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے درآمد شدہ ہارڈویئر کو مقامی ایجاد ظاہر کر کے بھارت کی تکنیکی خود کفالت کے دعوے کے لیے پیش کیا۔ عالمی اے آئی سمٹ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے بدھ کی صبح یونیورسٹی کا اسٹال خالی کروا دیا اور اسٹال کی بجلی منقطع کر دی گئی۔
سوشل میڈیا تنازع کے بعد یونیورسٹی نے ایکس پر بیان جاری کیا اور تسلیم کیا کہ روبوٹ کتا خریدی گئی چیز ہے اور طلبہ کی عملی تربیت کے لیے استعمال ہو رہا تھا تاہم یہ دعویٰ مسترد کیا کہ روبوٹ کو خود تیار کیا گیا۔ یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا ہم روبوٹ نہیں بلکہ ایسے ذہن تیار کر رہے ہیں جو مستقبل میں ٹیکنالوجی بھارت میں ڈیزائن، انجینئر اور تیار کریں گے۔
انڈیا اے آئی مشن کے چیف ایگزیکٹو ابھیشک سنگھ نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ یونیورسٹی نے خود کو وہ ظاہر کیا جو حقیقت میں نہیں تھی اور طلبہ نے گمراہ کن دعوے کیے جس سے بھارت کو عالمی فورم پر سُبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
پروفیسر نیہا سنگھ نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ معاملہ ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا اور ممکن ہے کہ انہوں نے اپنی بات ٹھیک طرح سے بیان نہ کی ہو یا اسے صحیح طور پر سمجھا نہ گیا ہو۔