آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ کے سپر ایٹ مرحلے کا آغاز ہفتے سے بھارت اور سری لنکا میں ہوگا جبکہ پاکستان کل اپنا پہلا میچ نیوزی لینڈ کے خلاف کولمبو میں کھیلے گا۔
پاکستان کے سپر ایٹ گروپ میں انگلینڈ اور سری لنکا بھی شامل ہیں جن کے خلاف بالترتیب 24 اور 28 تاریخ کو پالی کیلی اسٹیڈیم میں میچز ہوں گے۔ دوسرے گروپ میں بھارت، ویسٹ انڈیز، زمبابوے اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔ اتوار کو گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنلسٹ بھارت اور جنوبی افریقا مدِمقابل ہوں گے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کے گروپ کی تمام ٹیمیں وہ ہیں جنہوں نے ابتدائی مرحلے میں اپنے اپنے گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ دوسرے گروپ کی چاروں ٹیمیں اپنے گروپس کی ٹاپ پوزیشن ہولڈرز ہیں۔
میچ سے قبل سب سے زیادہ بحث پاکستان کی ممکنہ پلیئنگ الیون پر ہو رہی ہے۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا بابر اعظم کو دوبارہ موقع دیا جائے گا یا ان کی جگہ فخر زمان کو آزمایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کا امکان کم ہے اور صائم ایوب، صاحبزادہ فرحان، سلمان علی آغا، بابر اعظم اور عثمان خان ابتدائی پانچ پوزیشنز سنبھال سکتے ہیں۔
چھٹی سے آٹھویں پوزیشن تک شاداب خان، محمد نواز اور فہیم اشرف کھیلتے آئے ہیں، تاہم اگر ٹیم دو اسپنرز اور دو یا تین فاسٹ بالرز کے امتزاج کے ساتھ میدان میں اترتی ہے تو ان آل راؤنڈرز میں سے کسی ایک کو باہر بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ابرار احمد اور عثمان طارق کو بھی موقع دیا جا سکتا ہے۔
پریماداسہ اسٹیڈیم کی پچ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ڈے نائٹ میچز میں فاسٹ بالرز اور اسپنرز دونوں کو مدد ملتی ہے تاہم بیٹنگ کے لیے بھی سازگار ثابت ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اسی میدان پر بھارت سے 61 رنز سے شکست کھا چکا ہے۔
پاکستان کو سیمی فائنل میں رسائی کے لیے سپر ایٹ مرحلے میں کم از کم دو میچز جیتنا ہوں گے۔ گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان ابتدائی مرحلے سے ہی باہر ہو گیا تھا۔
اب تمام نظریں کل کے میچ پر مرکوز ہیں کہ پاکستان کس کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترتا ہے اور کیا وہ سپر ایٹ مرحلے میں فاتحانہ آغاز کر پاتا ہے یا نہیں۔