ہندوستان کی پہلی مسجد جس کا شمار برصغیر میں اسلام کی آمد کی اولین نشانیوں میں کیا جاتا ہے

image

بھارتی ریاست کیرالہ کے تاریخی شہر کوڈُنگَلور میں واقع ’چیرامن جامع مسجد‘ کو ہندوستان کی پہلی مسجد قرار دیا جاتا ہے اور اسے برصغیر میں اسلام کی آمد کی اولین نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس مسجد کی تعمیر 629 عیسوی میں ہوئی تھی اور اسے دنیا کی ابتدائی مساجد میں بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ عبادت گاہ اپنی منفرد طرزِ تعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث خصوصی شناخت رکھتی ہے۔

مسجد کی تعمیر کا پس منظر مقامی حکمران چیرامن پیرومل کے قبولِ اسلام سے جوڑا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق انہوں نے خواب میں چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ دیکھا، جس کی تصدیق عرب تاجروں نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے معجزے کے طور پر کی۔ بعد ازاں وہ عرب گئے، اسلام قبول کیا اور پیغمبر اسلام ﷺ سے ملاقات کی۔ واپسی پر انہوں نے حضرت مالک بن دینارؒ کو کیرالہ بھیجا اور اپنے اہلِ خانہ کے نام خطوط کے ذریعے تعاون کی ہدایت کی۔

تاریخی روایات کے مطابق حضرت مالک بن دینارؒ عرب سے ہندوستان آئے اور کیرالہ کے ساحلی علاقوں میں اسلام کی تبلیغ کے ساتھ متعدد مساجد کے قیام میں کردار ادا کیا۔ ان واقعات کا ذکر امام ابن حجر عسقلانی کی ”الاصابہ فی تمییز الصحابہ“، شیخ زین الدین مخدوم کی ”تحفة المجاہدین“ اور ولیم لوگن کی ”مالابار مینوئل“ سمیت مختلف کتب میں ملتا ہے۔

کوڈُنگَلور قدیم بندرگاہ ’موزِرِس‘ کے قریب واقع تھا جو عالمی تجارت کا اہم مرکز تھا۔ عرب تاجر صدیوں سے یہاں آتے اور تجارت کے ساتھ اپنے اخلاق کے ذریعے اسلام کا پیغام بھی پہنچاتے رہے، اسی بنا پر کیرالہ کو ہندوستان میں اسلام کے ابتدائی تعارف کا خطہ سمجھا جاتا ہے۔

مسجد آج بھی قائم ہے۔ سنہ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں اس میں گنبد اور مینار شامل کیے گئے تھے، تاہم 2022 کی مرمت میں قدیم طرز کو بحال کرنے کے لیے انہیں ہٹا دیا گیا تھا۔ کیرالہ حکومت نے ’موزِرِس ہیریٹیج پروجیکٹ‘ کے تحت اس کی باقاعدہ بحالی اور تحفظ کا کام بھی کیا ہے۔

کیرالہ کے مسلمان، جنہیں مپیلا کہا جاتا ہے، صدیوں سے تجارت، ثقافت اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں اور ان کی تاریخ ابتدائی عرب تاجروں سے جڑی ہے۔ چیرامن جمعہ مسجد آج بھی مذہبی رواداری کی علامت سمجھی جاتی ہے، جہاں رمضان میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی افطار کے انتظام میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ مسجد نہ صرف ہندوستان بلکہ اسلامی دنیا کے لیے تاریخی و روحانی ورثہ ہے اور کوڈُنگَلور شہر کی شناخت کا اہم حصہ مانی جاتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US