بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے مکھرجی نگر کی ایک گلی کے کونے میں بچا ہوا کھانا پلاسٹک کی استعمال شدہ پلیٹوں میں بکھرا پڑا تھا،جو کسی تقریب کے بعد وہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔
تاہم اسی وقت اشوتوش نامی بھارتی شہری خاموشی کے ساتھ اس ڈھیر میں سے بچ جانے والے چاول چننا شروع کر دیتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور بڑے پیمانے پر شئیر کی گئی۔
دی بیٹر انڈیا ویب سائٹ کے مطابق اشوتوش بغیر کسی ہچکچاہٹ کے نہایت احتیاط کے ساتھ پلیٹوں میں موجود کھانے کو الگ کرتے ہیں، جو قابلِ استعمال ہو اسے ایک بڑی پلیٹ میں جمع کرتے ہیں اور جو ناقابلِ استعمال ہو اسے ایک طرف کر دیتے ہیں۔ ان کی یہ محنت منظم انداز میں جاری رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ مناسب مقدار میں بچا ہوا کھانا اکٹھا کر لیتے ہیں۔
بعد ازاں وہ یہی بچا ہوا کھانا گلی کے آوارہ کتوں اور مویشیوں تک پہنچاتے ہیں، تاکہ وہ خوراک جو ضائع ہو سکتی تھی، کسی بھوکے جانور کے کام آ سکے۔
اشوتوش کے اس غیر معمولی عمل پر سب سے پہلے اسی علاقے میں موبائل فون کی دکان چلانے والے اُپلکش کی نظر پڑی۔ ایک روز جب وہ ویڈیو بنا رہے تھے تو انہوں نے اشوتوش کو کچرے میں سے بچا ہوا کھانا جمع کرتے دیکھا۔
اُپلکش کے بقول ان کا پہلا ردِعمل نہایت حیران کن تھا، مگر بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ اس اقدام کے پیچھے مقصد نہایت بامعنی ہے، مضحکہ خیز نہیں۔ اشوتوش دراصل وہ کھانا جمع کر رہے تھے جو بے سہارا جانوروں کے لیے خوراک بن سکے۔
اشوتوش کا تعلق بھارتی ریاست اتر پردیش سے ہے اور وہ اس وقت دہلی میں رہ کر یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس وقت اس کی توجہ خصوصاً اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کے امتحان پر مرکوز ہے۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ باقاعدگی سے اضافی اور بچ جانے والا کھانا جمع کرتے ہیں اور اپنے مقامی پارک میں آوارہ کتوں، گایوں اور پرندوں میں تقسیم کرتے ہیں۔
نوجوان کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ اپنے اس کام کی تشہیر سوشل میڈیا پر نہیں کرتے اور نہ ہی اس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ نہ تو کوئی مواد ہے اور نہ ہی مہم؛ بلکہ ایک ایسا عمل ہے جو ان کے خیال میں کیا جانا ضروری ہے۔