آئندہ 10 سے 15 سال کے دوران عالمی سطح پر روزگار کے متلاشی افراد کی تعداد 1.2ارب تک بڑھ جائے گی جن میں سے تقریباً 40 کروڑ افراد کو روزگار دستیاب ہوگا۔
عالمی بینک کے مطابق بے روزگاری کی شرح میں کمی اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کیلیے سستی توانائی کی فراہمی، بنیادی ڈھانچہ کی ترقی، صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات، جامع پالیسی سازی اور مالیات تک بہتر رسائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں نوجوان افرادی قوت سے بھرپور استفادہ کیلیے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ اس حوالے سے بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ کی ترقی کو بنیادی اہمیت دی جارہی ہے جس سے تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں کو مالیات تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے علاوہ توانائی کے شعبہ پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ مسابقتی نرخوں پر توانائی کی دستیابی سے پیداواری لاگت کو کم کیا جاسکے۔
ورلڈ بینک کے مطابق 2050 تک دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 85 فیصد حصہ ترقی پذیر ممالک میں رہائش پذیر ہوگا جس کے تناظر میں ترقی پذیر ممالک کو جامع اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر قیادت حکومت افرادی قوت سے بھرپور استفادہ اور بے روزگاری کی شرح میں کمی کیلیے نہ صرف فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے فروغ بلکہ درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کیلیے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنارہی ہے۔