پاکستان کے سابق چیمپین آف اسپنر اور ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کو شاداب خان کا سسر ہونے کے ناطے بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
مشتاق قومی ٹی وی چینل پر ورلڈ کپ کے میچز پر تبصرہ کر رہے ہیں اور ان پر الزامات رہے ہیں کہ کیونکہ شاداب ان کے داماد ہیں تو وہ متعصب ہو کر ماہرانہ رائے دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان ٹیم جب منگل کے دن انگلینڈ سے ورلڈ کپ کا سپر ایٹ میچ ہاری تو سابق کپتان محمد حفیظ نے بھی مشتاق کو شاداب کی حمایت کرنے پر آڑے ہاتھوں لے لیا۔
کرکٹ شائقین بھی اس بات پر نالاں ہیں کہ مشتاق غیر جانبدارانہ رائے نہیں دے رہے اور ہمیشہ شاداب کی طرف داری کرتے ہیں۔
حفیظ نے مشتاق سے سوال کردیا کہ پہلے تو وہ یہ بتائے کہ شاداب کو ٹیم میں بیٹسمین کے طور پہ یا بالر کے طور پہ کھلایا جا رہا ہے کیونکہ انگلینڈ کے خلاف وہ بالنگ میں کچھ نہیں کر پائے۔
مشتاق نے کہا کہ شاداب ایک آل راؤنڈر کے طور پر کھیل رہے ہیں، تو حفیظ نے کہا اگر ایسا ہے تو پھر وہ بالنگ میں کیوں نہیں پرفارم کر رہا ہے اور ان کی وجہ سے ابرار احمد کو کیوں بٹھانا پڑ رہا ہے۔
کرکٹ شائقین نے بھی رائے دی ہے کہ جب کوئی سابق کھلاڑی کا رشتہ دار قومی ٹیم میں کھیل رہا ہو تو اس کو کسی بھی چینل پر بیٹھ کے اپنی رائے نہیں دینی چاہیے۔
یاد رہے کہ مشتاق ایک مایہ ناز اسپنر رہے ہیں اور ساتھ میں وہ پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی رہے ہیں۔