2026 کے آخر میں انسانوں کا سامنا پُراسرار خلائی جہاز سے ہوسکتا ہے، بابا وانگا کی پیشگوئیاں

image

بلغاریہ کی نابینا نجومی بابا وانگا 1996 میں انتقال کرگئی تھیں، تاہم ان کی منسوب پیشگوئیاں آج بھی عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ان کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قدرتی آفات، عالمی سیاسی تبدیلیوں اور حتیٰ کہ انسانیت کے حتمی انجام تک سے متعلق پیشگوئیاں کی تھیں۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بابا وانگا نے اپنی پیشگوئیوں کو خود تحریری صورت میں محفوظ نہیں کیا تھا، بلکہ ان سے منسوب بیانات ان کے قریبی افراد اور عقیدت مندوں نے بعد ازاں قلم بند کیے تھے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے سال بہ سال 5079 تک کے واقعات کی پیشگوئی کر رکھی تھی۔

ان سے منسوب دعوؤں کے مطابق 2026 میں انسانیت کا کسی بڑی خلائی مخلوق یا اجنبی خلائی جہاز سے سامنا ہوسکتا ہے، حتیٰ کہ نومبر 2026 میں ایسی مخلوق کے زمین پر اترنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی سال شدید زلزلوں، موسمی شدت، قحط سالی اور آگ سے متعلق بڑے تباہ کن واقعات کی پیشگوئی بھی بیان کی جاتی ہے۔

بابا وانگا سے منسوب دعووں کے مطابق 2028 تک انسان توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں سیارہ زہرہ کی سمت پیش رفت کرے گا، اگرچہ سائنسی حلقوں کے نزدیک یہ سیارہ انسانی زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔

کہا جاتا ہے کہ 2033 میں زمین کے منجمد قطبی علاقے پگھلنا شروع ہوجائیں گے، جس کے نتیجے میں سمندروں کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوسکتی ہے۔

ایک اور پیشگوئی کے مطابق 2076 میں دنیا کے مختلف ممالک میں کمیونزم دوبارہ فروغ پائے گا اور کئی ریاستیں اس نظام کو اختیار کرلیں گی۔

پیروکاروں کا دعویٰ ہے کہ 2130 میں انسانوں اور خلائی مخلوق کے درمیان باضابطہ رابطہ قائم ہوجائے گا۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا کے بڑے حصے میں پانی کی شدید قلت پیدا ہونے کی پیشگوئی بھی ان سے منسوب ہے، جسے انسانیت کے لیے سنگین بحران قرار دیا جاتا ہے۔

ایک حیران کن دعویٰ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ 3005 میں زمین اور مریخ کے درمیان جنگ ہوگی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ان پیشگوئیوں کے مطابق 3797 تک زمین زندگی کے قابل نہیں رہے گی اور بچ جانے والے انسانوں کو سیارہ چھوڑنا پڑے گا۔

بابا وانگا سے منسوب آخری پیشگوئی میں کہا جاتا ہے کہ 5079 میں انسانیت کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US