ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ ایران بھر میں ان کی شہادت پر 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ سپریم لیڈر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ زیر زمین بینکر میں موجود تھے، اور ان کے کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے گئے۔ اس کارروائی میں آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ درجنوں سینئر ساتھی بھی مارے گئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان کی لاش کی تصویر امریکی صدر کو دکھائی گئی۔ برطانیہ کے میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے خامنہ ای کی لاش ملنے کی اطلاع دی۔
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر اب موجود نہیں، لیکن موت کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر بھی ہلاک ہوئے، خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ کیا گیا اور سینئر جوہری اہلکار بھی مارے گئے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی تب تک جاری رہے گی جب تک ضروری ہو اور آنے والے دنوں میں دہشت گرد حکومت کے ہزاروں مزید اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی اور اسرائیلی فضائی و بحری حملوں میں ایران کے 201 شہری شہید اور 747 زخمی ہوئے۔