ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر کے علاوہ 40 سے زائد اعلیٰ حکومتی اور فوجی افسران بھی شہید ہوئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ ایران کے 40 سے زائد سینئر سیاسی اور فوجی شخصیات کو حملوں میں ہلاک کر دیا گیا۔ یہ حملہ جدید جنگ میں کسی حکومت کی قیادت کے خلاف سب سے بڑے "decapitation" آپریشنز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ایران کی اعلیٰ قیادت ایک کمپاؤنڈ میں موجود تھی اور دیگر مقامات جہاں سینئر ایرانی فوجی عہدے دار موجود تھے، کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے ایران کے سیکیورٹی نظام میں کامیابی سے دراندازی کی، جس کی بدولت یہ آپریشن ممکن ہوا۔ حملوں کا وقت خاص موقع کے فائدے کے لیے دن کے دوران مقرر کیا گیا تاکہ شگفتگی (surprise) برقرار رکھی جا سکے۔
غیر ملکی خبر ایجنسیوں اور ریاستی میڈیا کے تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے چیف آف اسٹاف جنرل عبدالرحیم موسوی اور وزیرِ دفاع جنرل عزیز ناصرزادہ بھی شہید ہوگئے ہیں۔
ایرانی سرکاری ذرائع اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ایران کے چیف آف اسٹاف جنرل عبدالرحیم موسوی اور وزیرِ دفاع عزیز ناصرزادہ بھی حملے میں شہید ہوگئے۔
یہ حملے ایک بڑے آپریشن کا حصہ ہیں جس میں کئی سینئر ایرانی عسکری و سیاسی قائدین کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس نے خطے کی صورتحال کو شدید کشیدگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق ایران نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کردی ہیں، جس سے علاقائی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔