پاکستان ٹیم کے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل دوڑ سے باہر ہونے کے بعد کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ وہ پاکستان واپس جا کر فیصلہ کریں گے کہ آیا ان کو کپتانی چھوڑنی چاہیے یا نہیں؟
سلمان نے سری لنکا سے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے اور وہ واپس جا کر کپتانی کے معاملے پر دو تین دن میں فیصلہ کرلیں گے۔ ابھی جلدی میں کوئی فیصلہ کرنا ایک جذباتی ہوگا جو ٹھیک نہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیم نے پورے ورلڈ کپ میں اچھا پرفارم نہیں کیا اور اپنی پوری صلاحیتوں پر نہیں کھیل پائے جس کی وجہ سے آج ہم سیمی فائنل سے باہر ہیں،
پاکستان ٹیم نے ہفتے کے دن سری لنکا کو 212 رنز کرنے کے بعد پانچ رنز سے شکست تو دے دی مگر سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی نہیں کر پائے اور اس طرح سے ان کا ورلڈ کپ کولمبو میں ختم ہوا۔
علاقائی حالات کی وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ٹیم کو جلد سے جلد واپس لانے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان ٹیم نے ورلڈ کپ میں سات میچ کھیلے جس میں سے ایک بارش کی نذر ہوگیا اور دو وہ ہار گئے مگر یہ دونوں میچز اہم تھے جو بھارت اور انگلینڈ کے خلاف تھے۔
کہا جا رہا ہے کہ ورلڈ کپ میں مایوس کن پرفارمنس کے بعد سینئر کھلاڑی جن میں بابر اعظم، شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی اور دیگر کھلاڑیوں کو ڈراپ کیا جائے گا۔