امریکی صدر نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے متعلق انتہائی سخت اور غیر معمولی بیانات دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کی 48 اہم سیاسی و عسکری شخصیات کو ہلاک کر دیا ہے اور ایرانی قیادت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اپنے بیان میں امریکی صدر نے پاسدارانِ انقلاب کو ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے مقاصد کے حصول تک فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوجی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور 9 بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ کمانڈرز مارے جا چکے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران ایک بڑا اور مضبوط ملک ہے لیکن جنگ کے بعد وہاں جمہوریت قائم ہوگی اور مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے قطر ،عرب امارات،اردن،بحرین ،سعودی عرب کی قیادت سے بھی بات چیت کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی چیز کے بارے میں فکرمند نہیں اور تمام معاملات کنٹرول میں ہیں تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران 3 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔