امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے متعلق بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا واضح مشن ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا ہے تاکہ وہ خطے اور دنیا کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایران نے خلیجی ممالک میں فوجی اور غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں پر حملے کیے اور 100 سے زائد میزائل فائر کیے۔ ان کے مطابق ایران کے ابتدائی حملے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر امریکا پیشگی حملہ نہ کرتا تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے کیونکہ میزائلوں کے ساتھ ایٹمی صلاحیت دنیا کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق کانگریس کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور گینگ آف ایٹ کو مسلسل بریفنگ دی جا رہی ہے۔
مارکو روبیو نے موجودہ ایرانی حکومت کو عوام کی نمائندہ قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایک ایسے ایران کو دیکھنا چاہتا ہے جو موجودہ نظام سے آزاد ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی عوام خود اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے اور اگر انہیں امریکا کی مدد درکار ہوئی تو واشنگٹن کے دروازے کھلے ہیں۔