ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور امریکا کی فوجی کارروائیوں کے بعد سوشل میڈیا پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے متعلق دلچسپ میمز وائرل ہوگئیں، جن میں انہیں عالمی صورتحال کو دور سے دیکھنے والے تماشائی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ان دنوں شمالی کوریا کے تیسرے سپریم لیڈر اور کم خاندان کے رکن کم جونگ اُن سے متعلق میمز سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ میمز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شدید فوجی حملوں کی خبریں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
اگرچہ موجودہ تنازع دراصل ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں سے متعلق ہے، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مزید شدت آ گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ صارفین نے اس صورتحال میں کم جونگ اُن کو ایک ایسے کردار کے طور پر پیش کیا ہے جو عالمی کشیدگی کو دور بیٹھ کر دیکھ رہا ہے۔
کئی صارفین نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ میزائلوں اور جدید ہتھیاروں کی نمائش کے حوالے سے مشہور کم جونگ اُن اس وقت جاری عالمی تنازع سے مکمل طور پر باہر دکھائی دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ کئی صارفین نے اس پہلو پر بھی مزاحیہ میمز بنائیں کہ جدید ہتھیاروں اور میزائلوں کے باوجود کم جونگ اُن اس بڑے عالمی تنازع میں شامل نظر نہیں آ رہے، جسے بعض لوگوں نے طنزیہ انداز میں ’’جنگ کے بہترین کھلونوں کے باوجود نظر انداز ہونا‘‘ قرار دیا۔