ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پر واضح اور سخت مؤقف پیش کیا ہے۔
انٹرویو کے دوران رپورٹر نے ایرانی وزیر خارجہ سے سوال کیا کہ کیا انہیں اپنے ملک پر ممکنہ امریکی حملے کا خوف ہے؟ اس پر عباس عراقچی نے پُرسکون انداز میں جواب دیا کہ انہیں کسی حملے کا خوف نہیں بلکہ وہ اس کا انتظار کر رہے ہیں۔
رپورٹر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا کہ کیا آپ واقعی امریکی فوج کے زمینی حملے کا انتظار کر رہے ہیں؟ اس پر ایرانی وزیر خارجہ نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا: “Yes”۔
جنگ بندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے کبھی جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بھی کوئی خواہش نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں جب ایران نے امریکا کے ساتھ دو مرتبہ مذاکرات کیے تو ہر بار مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیا گیا، اسی لیے ایران اب نہ جنگ بندی کی درخواست کر رہا ہے اور نہ ہی امریکا سے مذاکرات کا خواہاں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے امریکا کو کبھی کوئی پیغام بھی نہیں بھیجا۔
انٹرویو کے دوران جب رپورٹر نے روس اور چین کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ اس جنگ میں ایران کی عملی مدد کر رہے ہیں، تو عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایران کی مدد کی ہے۔ اس جواب پر صحافی نے وضاحت چاہی تو وزیر خارجہ مسکرا دیے اور مزید تبصرہ نہیں کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شدید عالمی کشیدگی کے ماحول میں ایرانی وزیر خارجہ کا پُرسکون انداز اور واضح مؤقف ایران کی سفارتی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔