امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد ایران کا نقشہ شاید پہلے جیسا نہ ہو۔
مشرق وسطیٰ پر حملوں سے متعلق معافی سرینڈر کے مترادف ہے، ایران کا بیان امریکا اور دوست ممالک کی فتح قرار دیدیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سیٹلمنٹ چاہتا ہے لیکن میں نہیں چاہتا، یا تو انھیں ہتھیار ڈالنا ہوں گے یا وہ سب ختم ہوجائیں گے، ایران میں ایسا صدر چاہتے ہیں جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ روس ایران کی مدد کر رہا ہے، اگر روس ایران کی مدد کررہا ہے تو وہ اتنی کارآمد نہیں، کوئی فکر نہیں کہ ایران میں جنگ کب تک جاری رہتی ہے، ٹرمپ نے اسکول پر حملے کا الزام بھی ایران پر دھر دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ مناسب وقت پر اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو دوبارہ بھرنا شروع کردیں گے، ایران کی ڈرون صلاحیت کو بری طرح نقصان پہنچایا، 6 امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس ہے، نہیں چاہتا کہ کرد جنگجو ایران میں داخل ہوں۔