ایران میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اُن کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کی مجلس خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نئے رہبر معظم سے وفاداری کا عہد کریں اور قومی اتحاد کو برقرار رکھیں۔
مجلس خبرگان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کو اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اس سے قبل سینئر ایرانی عالم دین آیت اللّٰہ احمد علم الہدیٰ نے کہا تھا کہ نئے سپریم لیڈر کے حوالے سے باضابطہ اعلان مجلس خبرگان کے سیکریٹریٹ کی جانب سے کیا جائے گا۔
عرب اور برطانوی میڈیا رپورٹس میں بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ مجلس خبرگان کے اکثریتی ارکان مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کرنے پر متفق ہو گئے ہیں تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث باضابطہ اعلان میں تاخیر ہوئی۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا بھی مجتبیٰ خامنہ ای کے نئے سپریم لیڈر منتخب ہونے کا دعویٰ کر چکا ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے فارسی زبان میں بیان جاری کرتے ہوئے نئے ایرانی رہبر کو دھمکی دی ہے کہ وہ خامنہ ای کے جانشین کے تعاقب میں ہیں۔