مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے پہلی بار ایران کو براہِ راست جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد ایران نے سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بعض تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ اگر مملکت یا اس کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ریاض خاموش نہیں بیٹھے گا اور مناسب جواب دیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو پیغام دیا ہے کہ ریاض اب بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کا سفارتی حل چاہتا ہے تاہم مملکت کی سلامتی یا آئل تنصیبات پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک نے اب تک ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تاہم اگر خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تو سعودی عرب امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے پر غور کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف خلیجی ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی اہداف ہیں جبکہ تہران نے مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دریں اثنا سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی سعودی آرامکو نے تیل کی ترسیل کے لیے متبادل انتظامات شروع کر دیے ہیں اور ابتدائی طور پر تیل کی محدود ترسیل ینبوع بندرگاہ کی جانب منتقل کر دی گئی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالات معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔