پاکستان کے سابق مایہ ناز آل راؤنڈر عبدالرزاق نے بڑا انکشاف کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ کیسے ایک وقت میں سابق کپتان شاہد آفریدی نے فاسٹ بالر محمد عامر کو ٹیم ہوٹل میں تھپڑ مارا تھا۔
نجی ٹی وی چینل پر عبدالرزاق نے 2010 میں ہونے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بارے میں کچھ حیران کن انکشافات کیے جن میں ایک انکشاف یہ بھی تھا کہ پورے معاملے کی معلومات ان کے سامنے اتفاقیہ طور پر سامنے آئی۔
عبدالرزاق نے بتایا کہ 2010 میں انگلینڈ کے دورے پر ان کے ایک دوست جو رات میں پارٹ ٹائم موبائل ریپیرنگ کا کام کرتے تھے، ان کی دیگر کھلاڑیوں سے بھی جان پہچان تھی۔
عبدالرزاق کے بقول مظہر مجید جن کو بعد میں پاکستانی کھلاڑی سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف سے اسپاٹ فکسنگ کرانے کے جرم میں سزا بھی ہوئی تھی، اپنا فون اس بندے کے پاس ریپیئرنگ کے لیے چھوڑ گیا۔
عبدالرزاق نے بتایا کہ جب ان کے دوست نے فون پر کام کرنا شروع کیا اور فون آن ہوا تو ان کو کئی ایسے میسج نظر آئے جو مظہر مجید اور پاکستانی کھلاڑیوں کے درمیان تھے جس میں اسپاٹ فکسنگ کرنے کی سازش کے بارے میں باتیں کی گئی تھیں، میں نے جا کر شاہد آفریدی کو سارے میسج دکھائے تو انہوں نے محمد عامر کو کمرے میں بلایا اور مجھ سے کہا تم باہر جا کے کھڑے رہو۔
عبدالرزاق نے بتایاکہ تھوڑی دیر بعد ان کو ایک زوردار تھپڑ کی آواز آئی، پتہ چلا کہ شاہد آفریدی نے محمد عامر سے جب میسجز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پہلے منع کیا جس پر انہوں نے ان کو تھپڑ مارا اور اس کے بعد عامر جو اس وقت صرف 18 سال کے تھے ساری باتیں اگل دیں اور اپنی غلطی قبول کرلی۔
سابق آل راؤنڈر کے مطابق ہمیں اس طرح سے اسپاٹ فکسنگ کی سازش کا پتہ چلا اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ ان لڑکوں کو فائن کرکے واپس گھر بھیج دیتا تو شاید یہ معاملہ اتنا نہیں بڑھتا۔ اس سکینڈل کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کی بہت بدنامی ہوئی اور نقصان پہنچا۔
یاد رہے کہ اس سکینڈل کی وجہ سے سلمان بٹ، عامر اور محمد آصف کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اور انگلینڈ کی کراؤن کورٹ نے سزائیں سنائی تھی اور اس کے بعد سلمان اور محمد آصف کبھی پاکستان سے نہیں کھیلے۔