پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ مائک ہیسن نے اس بات کی نفی کی ہے کہ بابر اعظم اور دیگر سینئر کھلاڑیوں کو بنگلا دیش میں ہونے والی بنگلا دیش سیریز کے لیے ڈراپ کیا گیا ہے۔
پیر کے روز ڈھاکا میں ایک پریس کانفرنس سے ہیسن نے کہا کہ کسی کھلاڑی کو ڈراپ نہیں کیا گیا ہے اور صرف یہ کوشش کی گئی ہے کہ نئے کھلاڑیوں کو بھی موقع دیا جائے، میں سمجھتا ہوں یہ تین میچ کی ون ڈے سیریز بہت اچھا موقع ہے ان نوجوان کھلاڑیوں کے لیے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں غیر معیاری پرفارمنس کے بعد پاکستانی سلیکٹرز نے بابر اعظم، صائم ایوب، نسیم شاہ، خواجہ نافع، عثمان خان، محمد نواز کو بنگلا دیش دورے کے لیے ٹیم میں شامل نہیں کیا ہے اور ان کی جگہ چھ نئے کھلاڑیوں کو ڈالا ہے۔
مائک ہیسن نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں نے ڈومیسٹک کرکٹ اور پاکستان کی دوسری ٹیموں سے اچھی پرفارمنسز دی ہے اور خیال یہ ہے کہ ان کو موقع دے کر دیکھا جائے کہ ان میں کتنی صلاحیت ہے، پاکستان ٹیم اتنی تیزی سے میچز کھیل رہی ہوتی ہے کہ ہمیں موقع ہی نہیں ملتا کہ ہم اپنے نوجوان کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع دیں، ہمیں لگا کہ سیریز میں یہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بنگلا دیش سے تینوں ون ڈے میچز میں سخت مقابلے ہوں گے کیونکہ بنگلا دیش کی ٹیم پاکستان سے زیادہ 50 اوورز کی کرکٹ کھیلتی آرہی ہے، ہیسن کے خیال میں جب پاکستان نے بنگلا دیش میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی تھی تو اس وقت پچز بہت غیر معیاری تھیں مگر اس دفعہ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ون ڈے سیریز کے لیے پچز بہتر ہوں گی اور لگ بھی رہی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان ٹیم اپنا پہلا میچ 11 مارچ کو ڈھاکا کے شیر بنگلا اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔ یاد رہے کہ بنگلا دیش کی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہیں کھیل پائی تھی اور امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان بنگلا دیش کے تینوں ون ڈے میچز میں بہت زیادہ تماشائی آئیں گے۔