امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو اسے ایسی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا کہ وہ دوبارہ سنبھل نہیں سکے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران کو دنیا کی تیل سپلائی روکنے یا عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہزاروں میزائل تیار کیے تھے تاہم ان میں سے کئی کو پہلے ہی تباہ کر دیا گیا ہے اور اب ایران کو دوبارہ یہ صلاحیت حاصل کرنے میں کئی سال لگیں گے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو امریکا اور اس کے اتحادی مزید سخت فوجی کارروائیاں کریں گے اور ایران اس صورتحال کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی آئل ٹینکر یا تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب انتہائی سختی سے دیا جائے گا۔
امریکی صدر کے مطابق ضرورت پڑنے پر امریکا اور اس کے اتحادی تیل بردار جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں گے۔
ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ جاری فوجی کارروائیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں عارضی طور پر بڑھی ہیں تاہم امریکی حکومت قیمتوں کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
امریکی صدر نے ایرانی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران میں عوام کے خلاف مظالم ہو رہے ہیں اور دنیا بھر میں ہونے والے متعدد بم دھماکوں کے پیچھے بھی یہی رجیم رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایران میں ایسی قیادت آئے گی جو خطے میں امن کے لیے کام کرے۔