امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو ”غلط حراست کا سرپرست ملک“ قرار دیتے ہوئے طالبان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکی پالیسی میں رعایت حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو حراست میں لے رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ X پر جاری بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ طالبان مسلسل دہشت گردانہ ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے پالیسی میں رعایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایسے اقدامات موجودہ امریکی انتظامیہ پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔
انہوں نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ Dennis Coyle، Mahmood Habibi اور افغانستان میں مبینہ طور پر ناحق قید تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بے گناہ افراد کی حراست ناقابل قبول ہے اور امریکا اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔