آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے والی بھارت ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادو اور ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کو ٹرافی لے کر مندر جانے پر اپنے ملک میں کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کے ساتھ انٹرنیشنل ہیڈ کونسل کے چیئرمین جے شاہ پر بھی تنقید ہو رہی ہے کہ ان کا ورلڈ کپ ٹرافی اور بھارتی ٹیم کے مینجمنٹ کے ساتھ جانے کی کیا منطق ہے؟ کیونکہ وہ صرف بھارتی کرکٹ کو نہیں بلکہ اب عالمی کرکٹ کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔
بھارت کے ایک اپوزیشن لیڈر اور سابق ٹیسٹ کرکٹر کرتی ازاد نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور ورلڈ کپ جیتنے کی خوشی جتنی ہندوؤں کو ہے اتنی ہی مسلمانوں، کرسچنز اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھن والوں کو بھی ہے۔
کرتی ازاد کا کہنا ہے کہ بھارتی کپتان، ہیڈ کوچ اور جے شاہ نے ورلڈ کپ کی ٹرافی مندر میں لے جا کر غلط پیغام دیا ہے اور کرکٹ اور مذہب کو الگ رکھنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر کئی بھارتیو نے جہاں کرتی ازاد کو چپ رہنے کا مشورہ دیا وہیں بہت سوں نے ان کی بات کو سراہا بھی ہے اور سوریا کمار اور گمبھیر کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
مایہ ناز کرکٹر اور رکن پارلیمنٹ کرتی ازاد نے مزید کہا کہ ورلڈ کپ ٹرافی کو مندر لے جا کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ بھارت صرف ہندوؤں کا ہے جو غلط ہے۔