حیران کن واقعہ: مردہ قرار دی گئی خاتون شوہر کی کوششوں سے دوبارہ زندہ ہوگئیں

image

بھارت میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی جانب سے مردہ قرار دی جانے والی خاتون کو اس کے شوہر کی ہمت اور محبت نے دوبارہ زندگی دے دی۔ یہ واقعہ انسانی حوصلے، خاندانی محبت اور امید کی ایک غیر معمولی مثال بن گیا۔

معروف سوشل میڈیا پیج ہیومنس آف بمبئی پر ایک خاتون کی کہانی شیئر کی گئی جس میں تفصیل سے ان کے مشکل وقت کے بارے میں بتایا گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مارچ 2012 میں پیش آیا تھا جب خاتون ایک خاندانی تقریب سے واپس گھر آئی تھیں۔ تقریب کے بعد ان کی ٹانگوں میں شدید درد تھا جسے انہوں نے معمولی تھکن سمجھ کر نظر انداز کردیا۔ تاہم اگلی صبح بائیں ٹانگ میں عجیب بھاری پن محسوس ہوا جس کے باوجود انہوں نے درد کش دوا لے کر معمول کے کام جاری رکھے۔

دو روز بعد صبح چھ بجے جب وہ بستر سے اٹھنے کے لیے کھڑی ہوئیں تو اچانک زمین پر گر گئیں کیونکہ ان کی ٹانگوں میں بالکل طاقت نہیں رہی تھی۔ خوفزدہ ہو کر انہوں نے شوہر کو آواز دی جس کے بعد اہل خانہ انہیں فوری طور پر جموں کے ایک اسپتال لے گئے۔

پانچ روز تک مختلف ٹیسٹوں کے بعد ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وہ گیلن بیری سنڈروم (GBS) نامی نایاب اعصابی بیماری کا شکار ہیں۔ علاج کے دوران انہیں پانچ دن میں پانچ انجیکشن دیے جانے تھے، مگر مبینہ طور پر اسپتال کے عملے نے وہ تمام انجیکشن صرف 24 گھنٹوں میں دے دیے۔

اس شدید خوراک نے ان کے جسم پر خطرناک اثرات ڈالے اور انہیں یکے بعد دیگرے دل کے دورے پڑے۔ صورتحال اتنی سنگین ہوگئی کہ ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیتے ہوئے اہل خانہ سے کہا کہ اب انہیں گھر لے جائیں۔

تاہم اس لمحے خاتون کے شوہر نے ہمت ہارنے سے انکار کیا۔ انہوں نے تقریباً 35 منٹ تک مسلسل سی پی آر (CPR) کیا۔ بالآخر اچانک خاتون کے دل کی دھڑکن دوبارہ چل پڑی اور اسپتال میں موجود عملہ بھی اس منظر کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔

بعد ازاں انہیں فوری طور پر لدھیانہ منتقل کیا گیا جہاں دس روز تک وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔

اس واقعے کے بعد اصل آزمائش شروع ہوئی۔ اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد وہ مکمل طور پر بستر تک محدود تھیں اور ان کی ٹانگیں سن ہوچکی تھیں۔ اس وقت ان کے بچوں کی عمریں صرف 7 اور 10 سال تھیں اور وہ مسلسل اس فکر میں مبتلا رہتی تھیں کہ بچوں کی تعلیم اور روزمرہ زندگی کیسے چلے گی۔

مگر اس مشکل وقت میں پورا خاندان ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ بچوں نے چھوٹے چھوٹے کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا، جبکہ شوہر نے تین ماہ کی چھٹی لے کر ان کی دیکھ بھال کی۔ نہلانے سے لے کر فزیوتھراپی تک ہر کام میں انہوں نے بھرپور ساتھ دیا۔

خاتون کے مطابق کئی برس کی مسلسل فزیوتھراپی کے بعد آج وہ بغیر سہارے کے چلنے کے قابل ہیں، اگرچہ ان کی ایک ٹانگ اب بھی کمزور ہے جو انہیں اس جدوجہد کی یاد دلاتی ہے۔

واقعے کو اب 14 برس گزر چکے ہیں اور آج وہ 47 برس کی عمر میں اپنے بچوں کو بڑھتے اور زندگی کو آگے بڑھتے دیکھ رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ کیا انہیں افسوس ہوتا ہے کہ وہ پہلے کی طرح تیزی سے حرکت نہیں کرسکتیں۔ اس سوال پر وہ مسکرا کر کہتی ہیں کہ مجھے کامل زندگی کی ضرورت نہیں، میں تو وہ شخص ہوں جسے ایک بار مردہ قرار دے دیا گیا تھا، اور آج میں اپنے بچوں کو پروان چڑھتے دیکھ رہی ہوں۔ یہی میری سب سے بڑی نعمت ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بعض اوقات امید، محبت اور حوصلہ ایسے معجزے بھی ممکن بنا دیتے ہیں جنہیں سائنس بھی ناممکن سمجھتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US